ایام غم میں ایک اور خبرآہ حضرت مولانا عبد الاحد ازہری صاحب رحمۃ اللہ علیہ



ایام غم میں ایک اور خبر
آہ حضرت مولانا عبد الاحد ازہری صاحب رحمۃ اللہ علیہ 


ملک کے بزرگ عالم دین قاضی شریعت حضرت مولانا عبدالاحد صاحب ازہری بھی آج 4/اپریل کی صبح کا سورج نمودار ہونے سے قبل ہی رب کریم کے دربار میں حاضر ہوگۓ ۔

کل 3/اپریل کو مرشدِ گرامی حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی کے یو وفد کی یاد تازہ تھی اور 4/اپریل کو تدفین کا منظر نگاہوں میں گھم رہا تھا کے حضرت صاحب کے رفیق کار معتمد و محترم دوست بھی اسی تاریخ میں دوسال کے فاصلے پر اپنے رب کے پاس حاضر ہو گۓ حضرت قاضی ازہری صاحب  

آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تاسیسی اور ملک کے ممتاز عالم دین مستند قاضی تھے  مشہور علمی درسگاہ معہد ملت مالیگاٶں۔ کے ناظم اعلیٰ تھے نماز فجر کے وقت ماہ رمضان المبارک میں اللہ کو پیارے ہوگٸےانا للہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا قاضی عبدالاحد ازہری نے اپنی مادر علمی مہاراشٹر کی مشہور دینی درسگاہ معہد ملت مالیگاؤں میں تقریباً نصف صدی تک تدریسی خدمت انجام دی،وہ برسوں یہاں ناظم اور شیخ الحدیث رہے انہوں نے ہزاروں طلبہ کو پڑھایا اور سنوارا  ملک کے ممتاز ترین نوجوان عالم دین حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ صاحب رحمانی کے علاوہ کئ  ممتاز علماء کے استاد محترم تھے ،قاضی صاحب آل انڈیا اسلامک فقہ اکیڈمی کے ناٸب صدر تھے،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سے ان کا بہت گہرا تعلق تھا،1972 ممبٸی میں منعقد ہونے والے مسلم پرسنل لا کنونشن میں بھی وہ شریک تھے اس کے بعد سے تادم وفات انہوں نےبورڈ کے معزز رکن کی حیثیت سے قابل قدر خدمت انجام دی،ان کی رحلت سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے قدیم اور معزز رکن سے محروم ہوگیا، وہ امیر شریعت حضرت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی رح کے دست گرفتہ تھے اور پھر حضرت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ سے بعیت کی اور اصلاحی تعلق قائم رکھا انکے اہل خانہ کا بھی اصلاحی تعلق خانقاہ رحمانی مونگیر کے بزرگوں سے قائم ہے ۔حضرت قاضی صاحب نے معہد ملت سے فراغت کے بعد جامعہ ازہر مصر کی درسگاہ سے فیضیاب ہوئے اور واپسی کے بعد معہد ملت کے ہوکر رہ گۓ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سے حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی کی ہدایت اور اپنے مربی استاد محترم حضرت مولانا عبد الحمید کی خواہش کے مطابق حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب سے قضاء کی تربیت حاصل کی اور مالیگاؤں کے قاضی منتخب ہوئے ۔راقم الحروف کو بھی بارہا انکی علمی مجالس میں شرکت کا موقع ملتا رہا ہے اور قاضی صاحب کی نگاہ شفقت سے فیضیاب ہوتے رہنے کی سعادت نصیب ہوئی ۔انکے صاحب زادگان میں برادر محترم مولانا مفتی حامد ظفر صاحب رحمانی ملی مفتی راشد اسعد ندوی ڈاکٹر مسعود صاحب کے لئے یہ وقت بڑا صبر آزما ہے اللہ تعالیٰ ان سبھوں کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین صبح جب دونوں بھائیوں سے فون پر بات ہوئی اور حضرت امیر شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب کا تعزیتی پیغام سنایا تو معلوم ہوا کہ آپ کے صاحبزادے گرامی عمرہ کے سفر پر ہیں اور اپنے والد کی مغفرت اور بلند درجات کی دعا رب کریم کے سب سے بڑے گھر میں کررہے ہیں ۔
غمو ں کے اس ایا م میں لکھا نہیں جارہا لیکن رب کریم کی توفیق سے اس وقت یہ حاضر ہے۔ اپنی طالب علمی کے ایا م سے تادم تحریر تک جن بزرگوں سے تعلق رہا اور جنکی شفقتوں اور دعا ؤں سے فیضیاب ہونے کا شرف حاصل ہوا اب آہستہ آہستہ ایسی شخصیتا اللہ کے دربار کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔

دعا ہے کہ اللہ تعالی حضرت قاضی ازہری صاحب کی مغفرت فرماٸے، اعلیٰ علیین میں ان کو جگہ دے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرماٸے ( آمین یارب العلمین) 

✍🏼  محمد امتیاز رحمانی
اشرف نگر مونگیر
خادم جامعہ رحمانی مونگیر بہار



ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے