تین کروڑ روپے تخمینہ سے مولانا آزاد روڈ کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد، عید بعد کام کا آغاز ہوگا
سیاست میری تجارت نہیں ، تعمیری کام میرا شوق ہے ، مولانا آزاد روڈ کی عمدہ تعمیر ہوگی : اعجاز بیگ
مالیگاؤں : 31 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) برسوں سے کئے جارہے عوامی مطالبات کو دیکھتے ہوئے شہر کانگریس پارٹی کے صدر اعجاز بیگ نے بالآخر آج مولانا ابوالکلام آزاد روڈ کی تعمیر نو کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے ۔آج بروز جمعہ آٹھ رمضان المبارک کو بعد نماز تراویح سلیمانی چوک پر مولانا آصف شعبان کے ہاتھوں حافظ ریاض ملی کی دست دعا سے اس روڈ کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا گیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر منظور حسن ایوبی، جمیل کرانتی، زینو پٹھان سمیت کانگریس پارٹی کے عہدیداران اور وارڈ کی عوام کثیر تعداد میں موجود تھیں ۔سنگ بنیاد کی تقریب سے میڈیا نمائندوں کو اعجاز بیگ نے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا آزاد روڈ کی تعمیر 3 کروڑ روپے کے خطیر فنڈ سے ہوگی اور یہ فنڈ اس وقت کی مہاراشٹر سرکار میں شامل کانگریس کے سینئر لیڈر بالاصاحب تھورات کی جانب سے فراہم کیا گیا تھا ۔اعجاز بیگ نے کہا کہ اس کام کیلئے مالیگاؤں سے ممبئی تک مسلسل جدوجہد کی گئی اور جب یہ فنڈ منظور ہوا تو اس کی عمل آوری کیلئے ٹینڈر پروسیس مکمل کرنے کے بعد آج اسکا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ روڈ عمدہ کوالٹی کیساتھ سمینٹ کانکریٹ کی تعمیر ہوگی اور وارڈ ہی نہیں پورا شہر دیکھے گا کہ کام کس کو کہتے ہیں ۔
اعجاز بیگ نے کہا کہ آج مبارک دن ہے میں کسی پر تنقید نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ لوگوں کی عادت ہے کہ وہ اپنے پگارو چمچوں سے ایکدوسرے پر کیچڑ اچھالنے کا کام کرتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ سیاست میری تجارت نہیں ہے بلکہ یہ تعمیری کام میرا شوق ہے ۔اسی شوق کے چلتے میں وارڈ سے اوپر اٹھ کر پورے شہر میں کام کرنا چاہارہا ہوں اور آج اسکا آغاز کردیا گیا ہے ۔اعجاز بیگ نے کہا کہ عید بعد اس روڈ کی تعمیر کا باقاعدہ آغاز ہوگا ۔اسی کے ساتھ اس روڈ پر 25 لاکھ روپے سے پائپ لائن بھی تبدیل کی جائے گی اسطرح تین کروڑ 25 لاکھ روپے سے اس روڈ کا مکمل کام کیا جائے گا ۔مفتی اسماعیل کی کوششوں کے بارے میں پوچھے جانے والے سوال پر اعجاز بیگ نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کچھ بولنا نہیں ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج شہر میں جھوٹ کیوں ریس لگی ہوئی ہے ۔اس موقع پر ڈاکٹر منظور حسن ایوبی، جمیل کرانتی، مولانا آصف شعبان وغیرہ نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com