ٹیکسٹائل کمشنر کا ہیڈ کوارٹر ممبئی سے دہلی شفٹ کرنے کے احکامات، شندے حکومت دہلی کے تلوے چاٹنے والی، شیو سینا رکن پارلیمنٹ کی تنقید


ٹیکسٹائل کمشنر کا ہیڈ کوارٹر ممبئی سے دہلی شفٹ کرنے کے احکامات، شندے حکومت دہلی کے تلوے چاٹنے والی، شیو سینا رکن پارلیمنٹ کی تنقید 


 وزیر اعلیٰ شندے کا بیان زبانی جمع خرچ، اب تک کسانوں کو امداد نہیں، تو....بیمہ کمپنیوں کو مجرم قرار دیا جائے!



ونائک راوت کا مالیگاؤں دورہ ، 26 مارچ کو ادھو ٹھاکرے کا اجلاس ریکارڈ بریک ہوگا 



مالیگاؤں: 20 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ)
موجودہ ریاستی حکومت کی اپنی رائے نہیں ہے۔ شندے حکومت دہلی کی اسکرپٹ پر کام کرتے ہوئے، 'ویدانتا، ایئربس' کے بعد کئی صنعتیں ریاست سے باہر لے جارہے ہیں۔اب ممبئی میں واقع ٹیکسٹائل کی وزارت کا دفتر بھی دہلی منتقل کیا جا رہا ہے۔ اسطرح کا اظہار شیو سینا ادھو ٹھاکرے گروپ کے رکن پارلیمنٹ ونائک راؤت نے سرکاری ریسٹ ہاؤس میں منعقدہ پریس کانفرنس سے کیا۔انہوں نے وزیر اعلیٰ شندے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ برا نا مانے تو میں کہتا ہوں کہ شندے سرکار دہلی کے تلوے چاٹنے والی بن گئی ہیں اور یکے بعد دیگرے مہاراشٹر سے روزگار کے ذرائع دوسری ریاستوں میں منتقل کروائے جارہے ہیں ۔راؤت 26 مارچ کو ہونے جارہے ادھو ٹھاکرے کے جلسہ عام کا جائزہ لینے مالیگاؤں پہنچے تھے ۔انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ شندے غیر موسمی اور ژالہ باری سے متاثرہ کسانوں کو ریلیف دینے کے بجائے میٹنگیں کرتے پھرتے ہیں۔ ایم پی ونائک راوت نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بدقسمت وزیر اعلی کا ہونا مہاراشٹر کے لیے بدقسمتی ہے۔
 
 سرکاری ریسٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ ریاستی حکومت کی کوئی رائے نہیں ہے۔ تنقید کی کہ شندے فرنویس حکومت دہلی کی اسکرپٹ سے ہیرا پھیری کی جارہی ہے۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے سنر میٹنگ میں خشک سالی سے متاثرہ کسانوں کو 100 فیصد معاوضہ دینے کا اعلان کیا تھا، لیکن اب تک 95 فیصد پنچنامہ نہیں ہوا ہے۔ وہ اپنی بات بھول گئے ہیں اور وزیر زراعت بھی صرف دوڑ رہے ہیں۔ایم پی راوت نے مطالبہ کیا کہ کسانوں کی جانوں سے کھلواڑ کئے بغیر، او ٹی ایس وغیرہ کے جال میں پڑے بغیر براہ راست کسانوں کے کھاتوں میں امداد جمع کروائیں، جیسا کہ لاک ڈاؤن اور قدرتی آفات میں مہاوکاس اگھاڑی کے وزیر اعلیٰ ٹھاکرے کے طرز پر امداد دینی چاہیے ۔

راؤت نے کہا کہ پرانی پنشن اسکیم کا مطالبہ ناقابل عمل نہیں ہے۔ یہ ملک کی آٹھ ریاستوں میں یہ اسکیم نافذ ہے۔ نئی اور پرانی پنشن اسکیم میں بڑا فرق ہے۔ راؤت نے اس رائے کا اظہار کیا کہ پرانی اسکیم کو بحال کرنے اور بزرگ شہریوں اور مختلف اسکیموں کے غریب وظیفہ یافتگان کو ریلیف فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بھی خبردار کیا کہ شیوسینا کے ہندوتوا پر سپریم کورٹ نے مہر ثبت کردی ہے، اس لیے غدار ہمیں ہندوتوا نہ سکھائیں۔ اس موقع پر ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر ادوئے ابا ہیرے ، جینت ڈنڈے اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔

ونائک راوت نے کہا کہ ڈپٹی لیڈر ڈاکٹر ادوئے ہیرے کی قیادت میں مالیگاؤں میں ادھو ٹھاکرے کا اجلاس منعقد کیا جارہا ہے جو ریکارڈ ساز ہوگا۔اور اس اجلاس شیو گرجنا سے ریاست کو سمت ملے گی۔

تو انشورنس کمپنیوں کو مجرم قرار دیں۔

ونائک راوت نے مزید خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم مودی کے نام پر بھی 42 اسکیمیں جاری ہیں۔ لیکن اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے قومی بنک اس مینڈیٹ کو ردی کی ٹوکری میں ڈال دیتے ہیں۔ جو کسان او ٹی ایس اسکیم کے تحت پوری رقم ادا نہیں کر سکے وہ مقروض رہے اور ادا کی گئی رقم بھی ضائع ہو گئی۔ لہذا 'او ٹی ایس' کے جال میں پڑے بغیر کسانوں کی مدد کی جانی چاہیے۔ انشورنس کمپنیوں پر سرکار کا کوئی کنٹرول نہیں۔ ایم پی راوت نے مطالبہ کیا کہ ان کمپنیوں کے خلاف مجرمانہ کارروائی کی جائے جنہوں نے کلکٹر کی رپورٹ کے باوجود کسانوں کو معاوضہ دینے سے انکار کیا۔کچھ بینکیں بھی صارفین کو پریشان کررہی ہیں لہذا ان ہر بھی کارروائی ہونا چاہئے ۔انہوں نے بھارتی جتنا پارٹی اپنے مفاد کیلئے ہندوتوا کا ایجنڈا استعمال کرتی ہیں وہ مفتی محبوبہ سے ملے، موہن بھاگوت مسجد میں جائے انہیں سب چلے گا لیکن مالیگاؤں میں کوئی مسلم شیو سینا کے ساتھ آئے یا مہاوکاس اگھاڑی سرکار بنے تو کہتے ہیں کہ شیو سینا نے اپنا ہندوتوا چھوڑ دیا ہے ۔راؤت نے کہا کہ آپ غدار ہیں ہمیں ہندوتوا نہ سکھائیں۔آئندہ چناؤ 2024 میں بی جے پی کے چہرے سے نقاب اتارا جائے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے