جونی پینشن کا مطالبہ لیکر ہزاروں ملازمین سڑکوں پر نکل آئے، این پی ایس ختم کر جونی پینشن نافذ کی جائےاردو اسکولوں کے اساتذہ و معلمات،ضلع پریشد، کارپوریشن، پرانت،ایف ڈی او سمیت ہزاروں سرکاری و نیم سرکاری ملازمین کی کثیر تعداد میں شرکت18 نکاتی مطالبات لیکر کاکانی اسکول تا ایڈیشنل کلکٹر آفس ملازمین کا پیدل مارچ ،انصاف ملنے تک لڑائی جاری رکھنے کا اعلانمالیگاؤں : 20 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) جونی پینشن کا مطالبہ لیکر سرکاری و نیم سرکاری ملازمین احتجاج کہ راہ پریس ہیں اور آج اندولن کا چھٹا روز جاری ہے ۔اس کے باوجود بھی مہاراشٹر کیلئے شندے فرنویس حکومت نے اب تک کوئی فیصلہ نہیں لیا ۔ملازمین کا تذبذب بڑھتا جارہا ہے اور ایسے میں مالیگاؤں شہر و تعلقہ کی 25 سرکاری و نیم سرکاری تنظیموں نے سمنوئے سنگھ کے بینر تلے کاکانی اسکول تا ایڈیشنل کلکٹر آفس احتجاجی مورچہ نکالا ۔اس موقع پر مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے رکھا تھا ۔جس پر جونی پینشن کے نفاذ کا مطالبہ اور این پی ایس کا خاتمہ کیا جائے وغیرہ تحریر تھا ۔یہ مورچہ ایڈیشنل کلکٹر آفس پہنچا جہاں مظاہرین نے فلک شگاف نعرے لگائے اور اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔مظاہرین نے نعرہ لگایا کہ انصاف مانگنا ہے بھیک نہیں، سرکار کی نیت ٹھیک نہیں، پینشن ہمارا حق ہے کسی کے باپ کا نہیں ہے ۔جونی پینشن لیکر رہیں گے ۔اس موقع پر تقریبا 5 ہزار سے زائد سرکاری و نیم سرکاری ملازمین موجود تھے ۔ان میں محصول محکمہ، ایف ڈی او ملازمین ، ہیلتھ ورکرز، کارپوریشن ملازمین، پرائیوٹ و میونسپل پرائمری اسکولوں کے اساتذہ و معلمات، ضلع پریشد و پنچائیت سیمتی کے ملازمین شامل تھے۔یہاں ایڈیشنل کلکٹر آفس میں تنظیموں کی جانب سے میمورنڈم دیا گیا ۔اس ضمن میں کہا گیا ہے کہ جونی پینشن شروع کی جائے، این پی ایس بند کریں، پرائیوٹائزیشن بند کیا جائے ۔یہاں آر ڈی نکم سر رئیس سر ساجد نثار سر، ہاشم سر، شفیق کامریڈ ، الطاف سر، عارف بیگ سر،ظہور زمزم، بشری آپا، پاشا انیکا، رتنا کاکڑے ،پونم آملے، مینا ائیرے، کویتا پٹھارے، نکم چاروشیلا، ویشالی وجئے گوڑی، رخسانہ الطاف نے کہا کہ ہم 18 نکاتی مطالبہ لیکر احتجاج کی راہ پر ہیں اور اس احتجاج سے ہم عوام کو تکلیف دینا نہیں چاہتے بلکہ ہم ہمارا حق حاصل کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں ۔انہوں نے میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مندرجہ ذیل کے مطالبات حکومت سے کئے ہیں ۔مطالبات1) نئی پنشن اسکیم (NPS) کو ختم کر جونی پنشن اسکیم (OPS) کو سابقہ طرز پر نافذ کی جائے۔2) طویل عرصے سے کام کرنے والے تمام کنٹریکٹ اور ٹھیکہ طرز کے ملازمین کو مساوی کم از کم اجرت دے کر ان کی سروس کو پرمننٹ کیا جائے۔3)خالی اسامیوں کو فوری طور پر پُر کریں۔ (محکمہ صحت کو ترجیح دی جائے) نیز درجہ چہارم اور ڈرائیور ملازمین کی پوسٹنگ پر لگی پابندی کو فوری طور پر ختم کی جائے۔ (4) ہمدردی کی بنیاد پر تقرریاں کریں۔ کورونا کے دوران مرنے والے ملازمین کے بڑے بچوں کو بھی عمر کی حد میں رعایت دی جائے ۔5) ریاستی ملازمین کو مرکز کے برابر تمام ذیلی الاؤنسز دیں۔(ٹرانسپورٹیشن، تعلیم اور دیگر الاؤنسز دیا جائے)6) درجہ چہارم کے ملازمین کی منظور شدہ پوسٹوں کو منسوخ نہ کریں۔ درجہ چہارم اسٹاف ایسوسی ایشن کی طرف سے اٹھائے گئے دیگر تمام زیر التواء مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے۔7) اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے سروس مسائل(ان سروس ایشورڈ پروگریشن اسکیم 10، 20 اور 30 سال و دیگر) کو فوری طور پر حل کیا جائے ۔8) چھٹے پے کمیشن کی تنخواہ کی خامیوں کو دور کرنے میں بخشی کمیٹی پر فوری طور پر مکمل نظر ثانی کرکے ملازمین کے تمام متعلقہ زمروں - اساتذہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے۔9) ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سال کیا جائے ۔10) نئی تعلیمی پالیسی کو ختم کیا جائے۔11) نرسوں/ ہیلتھ ورکرز کے مالی اور خدمات سے متعلق مسائل کا فوری حل نکالا جائے ۔12) پسماندہ طبقے کے ملازمین کا پروموشن سیشن فوری شروع کیا جائے۔13) محترم ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے بہترین کام کے لیے ایڈوانس تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے ۔14) 80 سے 100 سال کی عمر کے ریٹائرڈ ملازمین کے لیے مرکزی حکومت کی طرف سے تجویز کردہ ماہانہ پنشن میں اضافہ کیا جائے ۔15) لیبر ایکٹ میں تبدیلیوں کو منسوخ کیا جائے جو مزدور ملازمین اساتذہ کے حقوق کے بارے میں تذبذب کا شکار ہیں۔16) سرکاری محکموں میں کسی بھی قسم کی نجکاری/ ٹھیکیداری پر سختی سے ممانعت لگائی جائے ۔17) قبائلی نکسل متاثرہ علاقوں میں ملازمین کے لیے ان سروس ایشورڈ پروگریس اسکیم کے علاوہ ایک درجے کی تنخواہ میں اضافے کا فائدہ برقرار رکھا جائے۔ متعلقہ ملازمین کو ساتویں تنخواہ کمیشن کے مطابق مراعاتی الاؤنس کا اطلاق کریں۔18) اساتذہ اور دیہاتوں کے ملازمین وغیرہ کی تنخواہوں میں اضافے پر غور کرنا۔
بریکنگ نیوز : شہر کے نامور ڈاکٹرس سمیت گیارہ ملزمین کیخلاف سنگین مقدمہ درج، 9 گرفتار ،12 جون تک پولس تحویل
بریکنگ نیوز : شہر کے نامور ڈاکٹرس سمیت گیارہ ملزمین کیخلاف سنگین مقدمہ درج، 9 گرفتار ،12 جون تک پولس تحویل نابالغ لڑکی سے جنسی تشدد، ڈلیوری اور نوزائیدہ بچی کو فروخت کرنے کا الزام، پولس تحقیقات جاری مالیگاؤں : 7 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کے ایک پرائیویٹ ہیرائی اسپتال میں ایک نابالغ لڑکی کا سیزرین سیکشن کا آپریشن کر کے ڈلیوری کر بچی کی پیدائش کی گئی اور اسے بیچنے کی نیت سے جنم لینے والی بچی کو اپنے پاس رکھنے کے معاملے میں چار ڈاکٹروں سمیت 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ان ملزمان میں ایک ریٹائرڈ میڈیکل آفیسر بھی شامل ہے۔ اس معاملے میں یہاں کے جنرل اسپتال کے میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جتیندر راؤ صاحب ڈولارے نے کیمپ پولس اسٹیشن میں ایک نامعلوم شخص، سنجے بھاگوت گاولی، پروین دیشمکھ، ڈاکٹر کشور ڈانگے،ڈاکٹر کشوری ڈانگے، نوشین رفیق شیخ، محمد فہیم محمد شفیق، سارتھک پروین جگتاپ اور چار خواتین (تمام ڈاکٹروں سمیت تین خواتین) کے خلاف شکایت درج کرائی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں مذکورہ ملزمان نے شہر کے ایک پرائیویٹ اسپتال میں ایک نابالغ لڑکی کا سیزیرین آپریشن کیا۔...



0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com