اقلیتوں کیلئے تعلیمی پالیسی سے متعلق اسٹڈی گروپ کی سفارشات حکومت کو پیش
رپورٹ پر غور کے بعد مالی معاملات اور بھرتی کے عمل پر مثبت فیصلہ لیا جائے گا :وزیر تعلیم
اساتذہ کی تنخواہ راست اکاؤنٹ میں ، کیش لیس اور ڈیجیٹائزیشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا
ناگپور :30 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست میں اقلیتوں کیلئے تعلیمی پالیسی بنانے کے لیے مقرر کردہ اسٹڈی گروپ کی رپورٹ موصول ہوئی ہے۔ ہم اس سلسلے میں مالی معاملات کی جانچ کے بعد سفارشات کو قبول کرنے کے لیے کارروائی کریں گے۔ اس طرح کی یقین دہانی اسکولی تعلیم کے وزیر دیپک کیسرکر نے قانون ساز کونسل میں دی ۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں اور اقلیتی برادری کے اسکولوں میں اسامیوں کی بھرتی تعلیمی سال کے اختتام سے پہلے کی جائے گی۔
اسٹڈی گروپ کی جانب سے اقلیتی برادری کی تعلیمی پالیسی پر پیش کی گئی رپورٹ کے بارے میں وقفہ سوالات کے دوران رکن اسمبلی ڈاکٹر وجاہت مرزا نے اٹھایا۔اس سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعلیم دیپک کیسرکر بول رہے تھے۔ اس موقع پر ہوئی بحث میں اپوزیشن لیڈر امباداس دانوے، ایکناتھ کھڈسے، ڈاکٹر سدھیر تامبے، وکرم کالے نے حصہ لیا۔
وزیر کیسرکر نے کہا کہ اقلیتی برادری کی تعلیمی پالیسی سے متعلق اسٹڈی گروپ کی سفارشات حکومت کو پیش کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر ایجوکیشن پلاننگ سے مالیاتی معاملات پر تفصیلی معلومات طلب کی گئی ہیں۔ فی الحال، حکومت نے 50 فیصد آسامیاں بھرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آدھار لنک کے ذریعے طلبہ کی تعداد معلوم کرنے کے بعد آئندہ 30 فیصد پوسٹیں پُر کی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتی اسکولوں میں بھی بھرتی کریں گے۔
اساتذہ کی تنخواہ براہ راست اکاؤنٹ میں جمع کرانے کی کوشش
ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن،ایجوکیشن آفیسر اور پے آفیسر آن لائن طریقہ متعارف کرائیں گے تاکہ اساتذہ کو دفاتر نہ جانا پڑے۔ اس کے علاوہ وزیر دیپک کیسرکر نے قانون ساز کونسل میں کہا کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ اساتذہ کی تنخواہ براہ راست بینک میں جمع کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ اس موضوع کا سوال رکن ناگوراؤ گنار نے اٹھایا۔
ایجوکیشن آفس میں اسٹاف کی کمی کے باعث کام میں تاخیر کے حوالے سے ڈاکٹر رنجیت پاٹل نے سوال اٹھایا ۔جس پر کیسرکر نے کہا کہ اگر دستاویزات درست ہیں تو کام میں تاخیر ہونے پر کارروائی کی جائے گی۔ ریاست میں بھرتی مہم چل رہی ہے اور کچھ اسامیاں پروموشن کے ذریعے پر کی گئی ہیں۔ کیش لیس اور ڈیجیٹائزیشن سسٹم متعارف کرایا جائے گا تاکہ عوام یا اساتذہ کو کسی دفتر کا چکر نہ لگانا پڑے۔ وزیر نے یہ بھی کہا کہ نجی، جزوی طور پر امداد یافتہ اسکولوں کو انصاف فراہم کیا جائے گا۔
اساتذہ کی بروقت تنخواہ کے لیے اضافی فنڈز
وزیر تعلیم دیپک کیسرکر نے قانون ساز کونسل میں کہا کہ ریاستی حکومت اساتذہ کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے بینک میں تنخواہ کے براہ راست آن لائن ڈپازٹ کا طریقہ شروع کرے گی اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کے لیے اضافی رقم فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر ہونے والی بحث میں ممبران پروین دراڈے، نرنجن داوکھرے، ڈاکٹر سدھیر تامبے نے شرکت کی۔
رکن وکرم کالے نے ریاست میں بقایا تنخواہ، زیر التوا میڈیکل بل، تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی ساتویں پے تنخواہ کی قسطوں کے بارے میں سوال اٹھایا۔ کیسرکر نے کہا کہ اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی پہلی اور دوسری قسط دی گئی ہے۔ تیسری قسط کی ادائیگی کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ تمام ضلع پریشدوں کو ہدایت دی جائے گی کہ وہ تنخواہوں کے فنڈ کو تنخواہوں پر خرچ کریں۔ طبی ادائیگیوں کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com