حکومت مہاراشٹر 63 ہزار 180 اساتذہ کو 2025 تک 100 فیصد گرانٹ دے گی! ہر سال 1161 کروڑ روپے بجٹ میں مختص کئے جائیں گے
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے نائب سیکرٹری سچن ساونت نے پریس ریلیز میں تفصیلات اجاگر کیا
ممبئی : 18 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) اسکولوں میں بچوں کو پڑھاتے ہوئے کچھ اساتذہ ریٹائرمنٹ کے دہانے پر پہنچ گئے، لیکن 4 ہزار اسکولوں کو گرانٹ نہیں ہے تو کچھ اسکولوں کو 20 فیصد، 40 فیصد سے زیادہ یا گرانٹ نہیں ملی۔ اس لیے غیر امدادی اور جزوی طور پر امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے نے گزشتہ 255 دنوں سے آزاد میدان میں احتجاج شروع کر رکھا تھا۔ اس کا نوٹس لیتے ہوئے ریاستی حکومت نے جمعرات کو انہیں گرانٹ دینے اور جاری گرانٹ میں اضافہ کی تحریری یقین دہانی کرائی ہے۔ اس لیے ریاست کے 63 ہزار 180 اساتذہ کا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ اس فیصلے سے تمام ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کو اگلے 2 سے 3 سال میں 100 فیصد تنخواہ ملے گی۔اسطرح کی تفصیلات سرکاری پریس ریلیز میں منترالیہ کے سیکرٹری کی دستخط سے جاری کی گئی ہے ۔
پریس ریلیز کے مطابق 100 فیصد غیر امدادی اسکولوں میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کا یہ حال ہے کہ اسکولوں میں کام کرتے ہوئے 10-12 سال گزر چکے ہیں، لیکن تنخواہ نہیں ہے۔ کچھ نے شادی سے پہلے نوکری بھی قبول کر لی اور اب ان کے بچے اسی سکول یا اعلیٰ تعلیم میں پڑھ رہے ہیں لیکن پھر بھی استاد کو تنخواہ نہیں ملتی اور کچھ کو تنخواہ بہت کم ہے۔ اس ضمن میں اساتذہ نے مختلف سطح پر سیکڑوں احتجاج کیا، لیکن سرکار نے صرف یقین دہانی کرائی تھی ۔اب کئی سالوں کے بعد شندے فڑنویس حکومت نے ان اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے لیے ایک اچھا فیصلہ لیا ہے۔ ممبئی آزاد میدان میں اگھوشت شکشک مہا سنگھ کے 255 دنوں اور شکشک سمنوئے مہا سنگھ کے ڈیڑھ ماہ سے جاری احتجاج کا نوٹس نہ لینے والی حکومت کے خلاف بدھ کو جارحانہ رخ اختیار کیا تھا جس سے وقت پولیس کو مداخلت کرنا پڑی۔ اس کے بعد اسکولی تعلیم کے وزیر دیپک کیسرکر نے کچھ مظاہرین اور ٹیچر ایم ایل اے کو بلایا اور بات چیت کی۔ جس کے بعد ایک جامع فیصلہ کیا گیا اور احتجاج کرنے والے اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تحریری یقین دہانی کرائی گئی کہ چند دنوں میں حکومتی فیصلہ کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد مظاہرین جمعرات 17 نومبر کی شام 6 بجے کے درمیان اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے لیکن ذمہ داران دھرنے پر بیٹھے ہیں تاکہ جی آر جاری ہوسکے ۔ اس موقع پر مظاہرین نے بڑی خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'کچھ وقت لگا، لیکن ایک مثبت فیصلہ کیا گیا'۔ اب سبھی کو تجسس ہے کہ ریاستی حکومت کب اس بارے میں حکومتی فیصلہ لے گی۔لیکن حکومت نے صاف کہہ دیا ہے کہ آئندہ ہفتہ کابینہ کے بعد جی آر جاری کیا جائے گا ۔
حکومت کے فیصلے کے مطابق
اضافی گرانٹ کے لئے اہل اسکولوں کی تعداد
3,427
گرانٹ میں اضافہ کیلئے اہل ڈیوژن کی تعداد
15,571
گرانٹ کی فکر سے آزاد ہونے والے اساتذہ کی تعداد
63,180
حکومت ہر سال گرانٹ دے گی۔
1160.88 کروڑ
ریاستی حکومت کا پرائمری، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کو گرانٹ دینے کا فیصلہ
135 اسکولوں اور 669 ڈویژن جنہوں نے غلطیوں کو درست کیا ہے ہر سال 50 کروڑ نو لاکھ روپے (100 فیصد تک) کی گرانٹ حاصل کریں گے۔ دو ہزار 801 اساتذہ کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
284 اسکولوں اور 758 ڈویژن جنہوں نے اپنی خامیوں کو پورا کیا ہے انہیں 20 فیصد سے 40 فیصد گرانٹ 20 فیصد سے 40 فیصد تک سبسڈی دینے کے فیصلے سے 3 ہزار 189 اساتذہ پر 55.51 کروڑ روپے سالانہ خرچ منظور کرتے ہوئے انہیں راحت دی گئی۔
228 اسکولوں اور 2650 ڈویژن کو کئی سالوں سے صرف 20 فیصد گرانٹ مل رہی تھی لیکن حکومت کے فیصلے کی وجہ سے اب ان 20 فیصد امداد یافتہ اسکولوں کو 40 فیصد سبسڈی ملے گی۔ اس طرح 12 ہزار 807 اساتذہ کو ریلیف ملا ہے۔ جس کیلئے سالانہ خرچ 250.13 کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے ۔
حکومتی فیصلے کی وجہ سے 40 فیصد سے 60 فیصد گرانٹ پانے والے سکولوں کی تعداد 2009 ہے اور وہاں 21 ہزار 423 اساتذہ کام کر رہے ہیں۔ 4 ہزار 111 ڈویژن کو 60 فیصد گرانٹ دینے کیلئے 375.84 کروڑ روپے سالانہ مختص کیا گیا ہے ۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن نے جمعرات کو مظاہرین کو یقین دلایا کہ 771 اسکولوں اور 7383 ڈویژن جو اسیسمینٹ (ملیانکن) میں اہل پائے گئے ہیں اور دس سال سے گرانٹ کا انتظار کر رہے ہیں انہیں 20 فیصد گرانٹ دی جائے گی۔ جس کیلئے 429.31 کروڑ روپے سالانہ خراچ مختص کیا گیا ہے ۔لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا حکومت اپنے وعدے کو پورا کرتی ہیں یا پھر سابقہ کی طرح ترتیب وار گرانٹ دینے میں ٹال مٹول کرتی ہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا پھر بھی اساتذہ اپنی سی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com