پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارلیمنٹ کی رکنیت باطل ، الیکشن کمیشن کا بڑا فیصلہ
کراچی : پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ عمران خان جو کہ پہلے ہی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے سبکدوش ہوچکے ہیں، اب ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی منسوخ کردی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک بڑا فیصلہ کرلیا۔ اس لیے عمران خان کا حال نہ گھر کا ہے نہ گھاٹ کا۔
کہا جارہا ہے کہ عمران خان نے غلط معلومات دی ہیں جس کے سبب ان کی ایم پی کی رکنیت منسوخ کر دی گئی ہے۔ پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان رضا کی سربراہی میں چار رکنی بنچ نے یہ فیصلہ دیا۔ اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن کے دفتر کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
پاکستان کے حکمران اتحاد کے قانون سازوں نے الزام لگایا کہ عمران خان نے توش خانہ (ریاستی خزانے) سے سستے تحائف خریدے اور انہیں مہنگے داموں فروخت کیا۔ اس سلسلے میں ان ارکان اسمبلی نے الیکشن کمشنر کو عرضی دائر کی تھی۔ الیکشن کمشنر نے اس پر سماعت کی۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور کمیشن نے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
عمران خان 2018 میں وزیراعظم بنے۔ اس دوران انہوں نے عرب ممالک کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہیں عرب ممالک کے حکمرانوں نے مہنگے تحائف دیے۔ عمران خان نے یہ تحفہ توشہ خانہ میں جمع کرایا۔ جس کے بعد عمران خان نے توش خانہ سے یہ تحفہ سستے داموں خرید لیا۔ پھر اس نے ان تحائف کو اونچی قیمت پر فروخت کیا۔ یہ تمام عمل عمران کی اس وقت کی حکومت نے منظور کیا تھا۔
اس وقت عمران خان نے الیکشن کمیشن میں اپنا موقف پیش کیا تھا۔ یہ تحائف سرکاری خزانے سے 2.15 کروڑ روپے کی لاگت سے خریدے گئے۔ اسے بیچ کر 5.8 کروڑ روپے کمائے گئے۔ عمران خان نے کہا کہ تھا کہ اس تحفے میں ایک گھڑی، ایک مہنگا قلم، ایک انگوٹھی اور چار رولیکس گھڑیاں تھیں۔ عمران خان نے اپنے انکم ٹیکس ریٹرن میں ان تحائف کی فروخت نہیں دکھائی۔ لہٰذا ارکان پارلیمنٹ نے عمران خان کی رکنیت کی منسوخی کا مطالبہ کیا تھا جسے آج منظور کردیا گیا ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com