ورنہ.. 20 فیصد گرانٹ پر ریٹائر ہونا پڑے گا !مظاہرین نے رات دیر تک احتجاج کیا، نان گرانٹ اساتذہ آزاد میدان پہنچیں، شکشک سمنوئے مہا سنگھ کی اپیل
سرکار اساتذہ کو 100فیصد گرانٹ دینے کے موڈ میں نہیں،مظاہرین کی تعداد اور احتجاج سے ہی امید وابستہ
ممبئی : 19 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) گرانٹ کیلئے جدوجہد کررہے اساتذہ نے اپنے حقوق کیلئے رات دیر تک آزاد میدان میں اپنا دھرنا جارہی رکھا ۔مظاہرین کا جوش و خروش رات میں کم نہ ہوا اور صرف ایک ہی آواز گرانٹ دو، سو فیصد گرانٹ گرانٹ دو کا نعرہ آزاد میدان میں لگایا گیا۔ مہاراشٹر کے تمام ٹیچرس کی تنخواہ کیلئے شکشک سمنوئے مہا سنگھ زبردست ایجی ٹیشن کر رہی ہے اگر وزراء کے تیقن اور میڈیا کی خبروں پر یقین کریں تو ہمیں پھر ایک بار دھوکہ ہوسکتا ہے۔ ہمارا مطالبہ سو فیصد گرانٹ کا ہے ۔سرکار اساتذہ کے دھرنے کے سبب تھوڑی نرم ہوئی ہیں لیکن ابھی بھی سو فیصد گرانٹ دینے کے موڈ میں نہیں ہے ۔اس لیے آزاد میدان ممبئی میں دھرنا اندولن کررہے اساتذہ کی یونین شکشک سمنوئے مہا سنگھ نے ٹھوس فیصلہ کیا ہے کہ اس احتجاج کو مزید تیز کیا جائے اور اساتذہ کو آج جارحانہ ہونا پڑے گا۔آزاد میدان میں احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا جب تک جی آر جاری نہیں ہو جاتا۔شکشک سمنوئے مہا سنگھ نے اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ گھر سے باہر نکلے اور ممبئی کے آزاد میدان دھرنے میں پہنچیں۔اسطرح کا اظہار آج اساتذہ یونین کے ذمہ داران نے کیا ہے ۔
تنظیموں کے ذمہ داران نے کہا کہ وزیر تعلیم سو فیصد گرانٹ دینے کو تیار نہیں ہے ۔ایک بار پھر ہمارے ساتھ دھوکہ ہو سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ آزاد میدان آئیں ورنہ ہمیں 20 فیصد پر ریٹائر ہونا پڑے گا۔اس لئے تحریک میں شدت کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ میدان میں یہ ہجوم کم نہیں ہونا چاہئے ۔ ہم اپنی دیوالی بھی آزاد میدان میں ہی منانے جارہے ہیں۔اس لئے آج زیادہ سے زیادہ تعداد میں اساتذہ شرکت کریں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com