مالیگاؤں : بارش کے پانی سے سید پارک و اطراف کے کئی مکانات میں پانی ، ضلع پریشد کی اسکولیں بھی زیر آب
گٹروں اور نالوں پر ناجائز تجاؤزات و کوڑا کرکٹ سے بارش کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ
مالیگاؤں : 20 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) اس سال بارش نے تباہی مچا دی ہے۔ کچھ دنوں کے بعد پھر ایک بار مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے زیر زمین پانی کی سطح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے اور اب پانی جذب ہونے کی گنجائش نہیں ہے۔ نتیجتاً جیسے ہی بارش ہوتی ہے، پانی بہہ جاتے ہیں، نالوں اور ندیاں میں طغیانی آ جاتی ہیں۔ پیر کی سہ پہر موسلا دھار بارش کے بعد شام کے وقت پتھریلی ندی اپنے کنارے چھوڑ کر آس پاس کے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے گئی۔تفصیلات کے مطابق درے گاؤں میں کھڑکی روڈ سے متصل پہاڑوں سے بہنے والا پانی نالوں سے گزر کر آگے بہہ جاتا ہے لیکن آبادی ہونے سے نالے بھی تنگ ہوگئے ہیں۔ جس سے سیلابی پانی میں اضافہ ہوگیا اور دریگاؤں کی کچی آبادی پانی میں گھری ہوئی ہے۔، سید پارک، امنکا نگر، مریم پارک، ضلع پریشد کے اسکولوں میں پانی کمر تک بھر گیا تھا۔ جس کی وجہ سے 40 سے 50 خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ بتایا جاتا ہے کہ رات کے وقت مدد کے لیے آئی جے سی بی بھی پانی میں الٹ گئی۔اس میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔وہیں دوسری طرف پوار واڑی علاقے میں بھی کئی گھروں میں پانی بھرنے سے عوام کو رات بھر پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔
دریں اثناء بگلان سمیت موسم ندی کے علاقے میں شدید بارش کے باعث موسم ندی کی سطح آب میں اچانک اضافہ ہوگیا۔ سینڈ وے بریج سے اوپر پانی بہ رہا تھا ۔ قلعہ کی کچی آبادی بھی پانی کی زد میں آگئی تھی کیونکہ سیلاب نے اس کے کنارے توڑ دیئے۔ منگل کی صبح تک سیلابی پانی کا اثر دھیرے دھیرے کم ہونا شروع ہو گیا تھا۔
شہر میں بڑے بڑے نالوں اور گٹروں پر بڑے پیمانے پر تجاوزات کئے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ ان نالوں کو شہری اور کاروباری حضرات کچرے کے ڈھیر کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ آدھے نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں اور ان میں کوڑا بھرنے سے پانی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے پانی رک جاتا ہے اور اطراف کے علاقے میں پھیل جاتا ہے۔ بعض مقامات پر نالوں پر کنکریٹ کی تعمیرات کی گئی ہیں۔جس کے سبب بارش کے پانی کا مجموعی اثر آبادی پر پڑتا ہے اور عوام کو تکالیف برداشت کرنا پڑ رہا ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com