مہاراشٹر میں اجیت دادا جیسا دیاوان وزیر مالیات ابھی تک نہیں آیا ہے ، ہم نے بھید بھاؤ کئے بغیر سب کو کروڑوں روپے فنڈ دیا


مہاراشٹر میں اجیت دادا جیسا دیاوان وزیر مالیات ابھی تک نہیں آیا ہے ، ہم نے بھید بھاؤ کئے بغیر سب کو کروڑوں روپے فنڈ دیا 


 شیو سینا سے بغاوت کرنے والوں کو عوام نے کبھی معاف نہیں کیا ہے ، شندے ۔ فرنویس سرکار کو پوار نے بتایا آئینہ


این سی پی کو بدنام کرنے والے لیڈران یاد رکھیں! میں نے ہی ایم ایل اے فنڈ کو ایک کروڑ سے پانچ کروڑ تک بڑھا کر مہاراشٹر کی ترقی میں رول ادا کیا ہے 



ممبئی : 4 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں ایکناتھ شندے حکومت نے آج ریاستی اسمبلی میں فلور ٹیسٹ کامیاب  کرلیا۔ اس کے بعد وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کو مبارکباد پیش کی گئی۔ اس تجویز پر بات کرتے ہوئے سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے آج مسلسل دوسرے دن بھی ایوان اسمبلی میں زبردست بلے بازی کی، براسر اقتدار کو کھلے الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا اور حقیقت سے آگاہ کیا ۔ آج بھی انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس پر تنقید کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے شیوسینا کے باغی ایم ایل اے کو بھی نشانہ بنایا۔



انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی مہاراشٹر میں شیو سینا کے ساتھ رہی اور اپنی طاقت میں اضافہ کیا۔ ہر کوئی اپنی پارٹی کی طاقت بڑھانے کے لیے کام کر رہا ہے۔ برتری کے باوجود، ایکناتھ شندے اپنے گروپ کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں گے، جب کہ فڑنویس بھی اپنی پارٹی کو مضبوط کرنے پر توجہ دیں گے۔

اجیت پوار نے صاف الفاظ میں کہا کہ میں نے آج دیویندر جی کو تقریر کرتے دیکھا لیکن کوئی جوش و خروش نہیں تھا۔ دیویندر فڑنویس مقننہ میں سب سے خوش قسمت ایم ایل اے ہیں۔ وہ ڈھائی سال میں  نائب وزیر اعلیٰ اور قائد حزب اختلاف بن گئے۔انہوں نے کوئی اہم عہدہ نہیں چھوڑا۔

پوار نے کہا کہ ہمیں خود کا جائزہ لینا ہوگا کہ ہمیں مسلسل یہ کیوں کہنا پڑتا ہے کہ ایکناتھ شندے شیو سینک ہیں۔ اقتدار آتا ہے، اقتدار جاتا ہے، کوئی بھی سونے کا چمچہ لیکر پیدا نہیں ہوا۔  فڑنویس جی، آپ شندے کی بہت تعریف کر رہے تھے، پھر آپ نے وزیر اعلیٰ کے دور میں روڈ ڈیولپمینٹ کا محکمہ کیوں دیا، اہم محکمہ کیوں نہیں دیا۔

 اگر شندے تمام خوبیوں سے مالا مال تھے تو روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن کا حساب کیوں دیا گیا، عوام کا حساب کیوں نہیں دیا گیا۔ مہاراشٹر بھی اس بارے میں سوچے گا۔اجیت دادا نے کہا کہ لیڈر بڑا ہو تو حساب زیادہ ہوتا ہے۔ چندرکانت پاٹل جانتے ہیں۔



پوار نے اسمبلی میں کہا کہ کچھ چیزیں منصفانہ (فیصلہ) ہونے سے پہلے آپ نے اکثریت کا تجربہ کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ قرارداد میں جلد بازی کی ضرورت نہیں تھی۔ گورنر نے مہاوکاس اگھاڑی سرکار کے وقت کچھ کام ملتوی کرنے کا کام کیا ہے۔ لیکن اب یہ کام بہت تیزی سے کیا جارہا ہے۔ جناب گورنر ایکشن موڈ میں آگئے ہیں۔  پٹولے کے استعفیٰ کے بعد وہ صدر کے انتخاب کے لیے گورنر کے پاس گئے، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اب یہ معاملہ چار دنوں میں کتنی تیزی سے پیش آیا۔مہاراشٹر کے لوگ اس بارے میں سوچ رہے ہیں۔

اجیت پوار نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں بہت کچھ دیکھنے کو ملا۔ سورت جانا، وہاں سے گوہاٹی جانا اور وہاں سے میں گوا چلے جانا ۔ دس دنوں میں ایم ایل اے شاید اپنی زندگی میں اتنا نہ چل سکے۔

باغی شیو سینا کے ایم ایل اے شاہ جی باپو کہتے ہیں کہ " کیا جھاڑی، کیا پہاڑ، اوکے اوکے۔ اجیت دادا نے کہا، باپو، ہم نے مل کر الیکشن جیتا ہے۔آپس میں الجھنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ اس وقت یہ معلوم نہیں ہے کہ عہدہ چھوڑنے کے بعد کیا کریں گے۔ آپ پیچھے رہ جائیں گے۔  باقی لوگ کہیں گے کہ ہم نے کبھی ایسا نہیں کہا۔


ایوان اسمبلی میں اجیت دادا نے شندے ۔ فرنویس سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے کہا کہ جب وزیر اعلیٰ کے طور پر شندے کے نام کا اعلان ہوا تو کچھ ایم ایل اے میز پر جا کر ناچنے لگے۔پوار نے کہا کہ طاقت آتی ہے اور جاتی ہے۔ سب دیکھ رہے ہیں۔ شندے گروپ کے ترجمان کیسرکر نے ترجمان کے طور پر معافی مانگ لی۔ انہوں نے کہا کہ ان پر این سی پی کی تہذیب عیاں ہیں۔  اجیت پوار نے کہا کہ کچھ لوگ کابینہ کے مستحکم ہونے تک خاموش ہیں۔ عبدالستار ان میں سے ایک ہیں۔ سورت جانے سے پہلے عبدالستار دو گھنٹے تک ہم سے گپ شپ کرتے رہے اور بغیر بتائے فوراً سورت کے لیے روانہ ہو گئے ان سے میڈیا نے پوچھا  تو کہا کہ بریانی کھانے جارہے ہیں ۔

 پوار نے کہا کہ آج تک مہاراشٹر میں ہوں۔ تاہم، آج میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بی جے پی کے ساتھ جانے کے بعد مہاوکاس اگھاڑی غیر فطری ہو گئی ہے اور جو لوگ یہ کہتے رہے کہ این سی پی نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی۔ درحقیقت، دیویندر فڑنویس اور دیگر تمام بی جے پی لیڈر جانتے ہیں کہ جب میں کام کرتا ہوں تو میں عام طور پر امتیازی سلوک نہیں کرتا۔

اجیت دادا پوار نے جذباتی انداز میں کہا کہ جب میں وزیر خزانہ تھا تو میں نے 1 کروڑ ایم ایل اے فنڈ کیا پھر  2 کروڑ۔ جب مہاوکاس اگھاڑی حکومت آئی تو 3 کروڑ۔  دوسرے سال 4 کروڑ، اب 5 کروڑ۔  بالکل بھی امتیازی سلوک نہیں کیا۔ 288 ایم ایل اے کو ساری رقم ملنی چاہیے۔اس لیے میں نے سب کو برابر سمجھا یے ۔مہاوکاس اگھاڑی کے وزراء کو کروڑوں روپے فنڈ دیا ۔ایکناتھ شندے کی وزارت کو 3 ہزار کروڑ تک گرانٹ دیا ۔اجیت دادا نے شیو سینا اور کانگریس کے علاہ این سی پی وزراء کو کروڑوں روپے فنڈ دیا ۔انہوں نے کہا کہ چار سو شیو بھوجن شیو سینا کہ سفارش پر منظور کیا ۔مہاراشٹر میں کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اجیت دادا پوار بھیدی بھاؤ کرتے ہیں بلکہ سب سے دیا وان وزیر مالیات اجیت دادا پوار ہی ہیں جنہوں نے اپنے کام سے ثابت کردیا ہے ۔


اجیت دادا پوار نے چندے سرکار کو صاف لفظوں میں کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ مہاراشٹر میں جب جب شیو سینا سے کسی رکن اسمبلی نے بغاوت کی ہے تب تب اس سے عوام نے حساب لیا ہے اور وہ دوبارہ چن کر نہیں آیا ۔مہاراشٹر کی عوام خاص طور پر شیو سینک سب یاد رکھتے ہیں ۔حکومت کچھ دنوں کیلئے آتی ہیں اور جاتی ہیں لیکن ہمیں ہمیشہ مہاراشٹر میں رہنا پڑتا ہے ۔اس لئے عوام کے غصے کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ شندے سرکار مہاراشٹر کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرے ۔اجیت دادا پوار نے کہا کہ ہمارے نظریات الگ، آئیڈیالوجی الگ، پارٹی الگ، سوچ الگ لیکن ہمارا مقصد مہاراشٹر کی ہمہ جہت تعمیر و ترقی ہونا چاہئے اور اسی امید کیساتھ نئی حکومت کو مبارک باد ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے