وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا این سی پی کو پہلا جھٹکا ، 500 کروڑ روپے کے تعمیری کاموں پر لگائی روک


وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا این سی پی کو پہلا جھٹکا ، 500 کروڑ روپے کے تعمیری کاموں پر لگائی روک 




ممبئی : 2 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) اقتدار میں آتے ہی ریاست کے نئے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے این سی پی کو پہلا جھٹکا دیا ہے ۔ این سی پی لیڈر اور سابق وزیر چھگن بھجبل کی زیر صدارت ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی کی میٹنگ میں ترقیاتی کاموں کے لیے 567 کروڑ روپے کے فنڈ کو منظوری دی گئی تھی ۔ وزیر اعلیٰ شندے نے اس کام پر روک لگا دی ہے۔


تفصیلات کے مطابق ناسک ضلع میں مختلف ترقیاتی کاموں کے لیے 567 کروڑ روپے استعمال کیے جانے تھے۔ دریں اثنا، وزیر اعلی ایکناتھ شندے نے ضلعی منصوبہ بندی کمیٹی کے 567 کروڑ روپے کے کام کو روک دیا ہے۔وزیر اعلیٰ شندے نے ضلع کلکٹر گنگا دھرن دیو راجن کو فون کر سوال کیا کہ کام میں اتنی جلدی کیوں کی گئی ؟ایکناتھ شندے نے ناسک کے ضلع کلکٹر سے اس بارے میں باز پرس بھی کی ہے۔یہاں میڈیا ذرائع سے حاصل تفصیلات کے مطابق ضلع کلکٹر نے کہا کہ نئی سرکار کی بنیاد سے دو دن قبل سرکار سے منظورِ شدہ 600 کروڑ روپے کے بجٹ کو دفتری منظوری دی گئی ہے لیکن کسی طرح کے فنڈ کی تقسیم نہیں کی گئی ہے ۔
  

دریں اثنا،ناندگاؤں کے رکن اسمبلی سہاس کاندے کی شکایات پر وزیر اعلی نے مداخلت کی ۔خیال رہے کہ چھگن بھجبل نے منصوبہ بندی کمیٹی میں مشورہ دیا تھا کہ سڑکوں کی مرمت، تعمیر نو، ڈیم کی مرمت کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندے، عوامی کلکٹر دفتر، ضلع پریشد، ضلع اور ڈویژن سے ملنے والے ترقیاتی کاموں کی تجاویز پر غور کرتے ہوئے تمام تعلقہ کو یکساں فنڈز دیئے جائیں۔ تاہم، شندے-بی جے پی کی حکومت کے آنے کے ساتھ، ان کاموں کو روک دیا گیا ہے۔جس سے راشٹروادی کانگریس پارٹی کے لیڈر بھجبل سمیت ضلع کے ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ بھی پیدا ہوگی ۔اس بارے میں ابھی تک چھگن بھجبل کے تاثرات سامنے نہیں اۂے ہیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے