ریاست کی اسکولوں کے سیکڑوں ڈیوژن کے گرانٹ کے عریضے نامنظور ، اساتذہ کو کرنا ہوگا مزید انتظار


ریاست کی اسکولوں کے سیکڑوں ڈیوژن کے گرانٹ کے عریضے نامنظور ، اساتذہ کو کرنا ہوگا مزید انتظار 


پرائمری و سیکنڈری اسکول کی فہرست جاری، خامیاں دور کرنے 30 جون تک موقع، ذمہ دار کون؟ 



ممبئی : 25 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ریاست کی سیکڑوں اسکولوں میں اضافی کلاسوں کی منظوری کے بعد نان گرانٹ طرز پر جاری ڈیویژن میں برسر ملازمت اساتذہ کرام برسوں سے گرانٹ کا انتظار کررہے ہیں اور توقع تھی کہ اِس مرتبہ ریاست کی مہا وکاس اگھاڑی سرکار انہیں گرانٹ کی اہل قرار دے گی ، لیکن ایک جانب مہا وکاس اگھاڑی حکومت کا تختہ لڑکھڑا کر اوندھے منہ گرنے کے کگار پر ہے تو اُس سے قبل ہی محکمہ ایجوکیشن نے منترالیہ سے گزشتہ کل ریاست مہاراشٹر کی اسکولوں میں منظور شدہ ڈیویژن پر گرانٹ کے لئے داخل کردہ عریضہ جات کو نامنظور کردیا ہے ۔ پرائمری اور سیکنڈری شکشن میں نا اہل ڈیویژن کی فہرست منترالیہ سے جاری کی گئی ہے ، جس کے مطابق پرائمری اور ہائی اسکولوں کی 648ڈیویژن میں ہزاروں اساتذہ کرام ایک بار پھر گرانٹ کا انتظار لگائے بیٹھے تھے کہ انہیں مایوسی ہاتھ لگی ۔ 

تفصیلات کے مطابق 285 پرائمری اسکولوں کے ڈیویژن اور 239 ہائی اسکولوں کے ڈیویژن جو کہ مہاراشٹر بھر میں شمار کئے جاتے ہیں تو گرانٹ کے لئے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں محکمہ ایجوکیشن نے اندرونِ پندرہ یوم مناسب کارروائی کرتے ہوئے ان اسکولوں کے نام پیغام جاری کیا ہے کہ 30 جون 2022ء تک اپنے عریضہ جات میں پائی گئی خامیوں کو دُرست کرتے ہوئے ضلع وائز متعلقہ حکام کو روانہ کریں ، تاکہ انہیں گرانٹ کے اہل قرار دینے کے لئے کارروائی آگے بڑھائی جائی ۔ خیال رہے کہ گورنمنٹ کی طرف سے نا اہل اسکولوں کی لسٹ جاری کی گئی ہے اُن میں زیادہ تر کلاسوں کو اس لئے نا منظور کیا گیا ہےکہ انہوں نے اساتذہ کی انفرادی منظوری (اپرووَل ) حاصل نہیں کی ہے ۔

اس کے علاوہ متعلقہ ایجوکیشن آفیسر سے تصدیق نامہ نہ ہونےکی صورت میں بھی کلاسوں کو نا منظور کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح سنچ مانیتا میں بھی تفریق نظر آنے پر اُن اسکولوں کے ڈیویژن کو گرانٹ کے لئے نا اہل قرار دیا گیا ہے ۔ مالیگائوں سمیت مہاراشٹر کے سیکڑوں ڈیویژن پر برسر ملازمت ہزاروں اساتذہ کرام ایک بار پھر نان گرانٹ کی فہرست میں ہی برقرار رہیں گے۔ لسٹ جاری ہونے سے ایجوکیشن حلقہ بالخصوص اساتذہ کرام میں مایوسی کا ماحول بنا ہو اہے ۔ خبر یہ بھی ہے کہ ان ڈیویژن پر اساتذہ کرام نے ملازمت کے لئے اسکول انتظامیہ کو بھاری بھرکم ڈونیشن ، بلڈنگ فنڈ کے نام پر دیا ہے ۔ اس لئے بتایا جاتا ہے کہ مالیگائوں سمیت مہاراشٹر بھر میں بڑے پیمانے پر عمارت کی تعمیر کے نام پر لین دین بھی ہوا ہے اور اساتذہ کرام اس آس و اُمید میں ہیں کہ انہیں آج نہیں تو کل سرکار گرانٹ دے گی ، لیکن گرانٹ کے لئے نا اہل ڈیویژن کی فہرست میں جو وجہ بتائی گئی ہے اُس میں اسکول انتظامیہ کی نہیں تو کلرک اسٹاف اور ہیڈ ماسٹرس کی بھی بے شمار غلطیاں ہیں ۔ نمائندہ بیباک کواِس ضمن میں نا م نہ لینےکی صورت میں ایک سرکاری آفیسر نے بتایا کہ بہت ساری اسکولوں نے اپنے عریضہ جات میں اساتذہ کی منظوری (اپرووَل ) کو شامل نہیں کیا ہے اس کے علاوہ دیگر ایسے بھی مسائل ہیں جسے انہیں پورا کرنا انتہائی آسان ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اساتذہ کو دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی پر بے یار ومددگار چھوڑ کر الزام سرکاراور آفیسران پر لگایا جارہا ہے اس لئےاساتذہ کرام کو ہر معاملے سے باخبر رہنا ضروری ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے