ناسک ضلع میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ، 70 فیصد پمپ بند ،31 مئی کو ملک گیر سطح پر تیل کمپنیوں کیخلاف دھرنا اندولن


ناسک ضلع میں پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ، 70 فیصد پمپ بند ،31 مئی کو ملک گیر سطح پر تیل کمپنیوں کیخلاف دھرنا اندولن  


  پانیواڑی منماڑ تیل کمپنی پر ڈسٹرکٹ پٹرول ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کا دھرنا : بھوشن بھونسلے 



مالیگاؤں و اطراف میں بھی بیشتر پمپ پر پیٹرول ڈیزل ختم ، صارفین کو حراسانی کا سامنا، ضیاء الرحمن زری والا و ریاض آئیل والے نے ڈیلرس اسو سی ایشن کے فیصلے کا خیر مقدم کیا  




مالیگاؤں :30 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) آئل کمپنیوں کی جانب سے ناکافی سپلائی کے باعث ضلع کے بیشتر علاقوں میں ایندھن کی مصنوعی قلت پیدا ہو گئی ہے۔  جس کی وجہ سے صارفین کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور پمپ آپریٹرز کو ان کے غصے کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑرہا ہے۔یہی حال مالیگاؤں شہر میں بھی بیشتر پیٹرولیم پمپ کے ہیں ۔تفصیلات کے مطابق ناسک ڈسٹرکٹ پٹرول ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر بھوشن بھوسلے نے مطالبہ کیا کہ تیل کمپنیوں کو پہلے کی طرح آسانی سے ایندھن کی سپلائی کرنے کی ہدایت دی جائے۔  گزشتہ چند دنوں سے تیل کمپنیوں کی جانب سے ایندھن کی سپلائی میں خلل پڑا ہوا ہے۔ ضلع کے بیشتر پٹرول پمپس خاص طور پر بھارت پٹرولیم خشک چل رہے ہیں کیونکہ ہر روز کسی نہ کسی وجہ سے ڈیزل کی سپلائی نہیں ہو رہی ہے۔ جبکہ پمپ آپریٹرز کی جانب سے روپے کی پیشگی ادائیگی کے بعد بھی ایندھن کی ناکافی فراہمی کا خمیازہ صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس ضمن میں مالیگاؤں شہر سے زری والا انرجی بی پی سی ایل آؤٹ لیٹ 
 (Zariwala energy BPCL outlet)  کے آنر ضیاء الرحمن زری والا نے کہا کہ تیل کمپنیوں کو ایڈوانس میں مکمل رقم ادا کرنے کے بعد بھی پیٹرول و ڈیزل کی سپلائی نہیں ہورہی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ کمپنیوں میں ایندھن کا اسٹاک نہیں ہے ۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ایندھن کی سپلائی بحال ہوگی صارفین کو پیٹرول ڈیزل فراہم کیا جائے گا ۔اسی طرح ریاض بھائی آئیل والے سے اس مسئلہ پر گفتگو کی گئی تو موصوف نے کہا کہ کمپنی کئی ہفتوں سے ڈیلرز کو مال فراہم کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کررہی ہیں ۔کیش اماؤنٹ ادا کرنے کے بعد بھی کمپنی پیٹرولیم کی سپلائی نہیں کررہی ہیں انہوں نے کہا کہ آج نیشنل ہائی وے پر جاری میرے پمپ پر بھی ڈیزل کا اسٹاک ختم ہوگیا ہے اور پیٹرول کا اسٹاک بھی کم ہی بچا ہوا ہے ۔کیش پیمینٹ آرڈر کرنے کے بعد بھی کمپنی نے ابھی سپلائی بحال نہیں کی ہے ۔

دوسری جانب بھوسلے نے ایک بیان میں کہا، "پیٹرولیم بحران کی وجہ سے ترقی سست ہونے کا امکان ہے۔" ناسک ضلع میں تقریباً 70 فیصد پمپ خاص طور پر دیہی علاقوں میں ایندھن کی سپلائی کی کمی کی وجہ سے بند پڑے ہیں۔جس کی وجہ سے حکومت کو بھی مالی نقصان ہو رہا ہے۔ بھوشن بھونسلے نے مطالبہ کیا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں پر اشیائے ضروریہ ایکٹ نافذ کیا جائے۔  تاہم فی الوقت مصنوعی ایندھن کی قلت کو تیل کمپنیوں کی جانب سے نفع نقصان کے سبب نظر انداز کیا جا رہا ہے۔  اس لیے تیل کمپنیوں کو معمول کے مطابق ایندھن کی سپلائی کرنے کی ہدایت دی جائے اور ضلع کلکٹر کے ذریعے مقامی پیٹرول ڈیلرس اسوسی ایشن کے ذریعے معلومات پر عمل درآمد کیا جائے۔ بیان کے آخر میں بھوسلے نے اس سلسلے میں فوری کارروائی نہ کرنے کی صورت میں شہریوں میں عدم اطمینان کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال بگڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا۔

اس سلسلے میں نمائندہ بیباک نے ناسک ڈسٹرکٹ پٹرول ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر بھوشن بھوسلے سے فون پر گفتگو کی تو موصوف نے کہا کہ تیل کمپنیوں میں ایندھن کے نہ ہونے کا عذر پیش کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے ناسک ضلع میں 70 فیصد سے زائد پمپ بند ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ جب پیٹرول 60 روپیہ فی لیٹر تھا تب ڈیلرس کے کمیشن کا جو فیصد تھا آج بھی وہی فیصد ہے جبکہ کمیشن کے سامنے بڑھنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ آل انڈیا سطح پر 31 مئی بروز منگل کو پٹرول ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کی جانب سے تیل کمپنیوں کے دفتر پر پیٹرول، ڈیزل نہ حاصل کیا جائے کو لیکر دھرنا اندولن کیا جائے گا ۔ایک دن کیلئے کوئی بھی ڈیلر کمپنیوں سے مال نہیں خریدے گا اور اپنی ناراضگی کا اظہار کریگا ۔اس سلسلے میں ناسک ڈسٹرکٹ پٹرول ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر بھوشن بھوسلے کی قیادت میں منماڑ کے پانیواڑی علاقہ میں آباد تیل کمپنی پر ایک دن کیلئے دھرنا اندولن کریں گے ۔

دوسری جانب سے یہ بھی خبر آرہی ہے کہ تیل کمپنیاں جان بوجھ کر ڈیلرس کو پیٹرولیم نہیں دے رہی ہیں ۔کمپنیوں کا کہنا ہے کہ سرکار نے پیٹرولیم کے دام اچانک کم کردیئے جس کی وجہ سے کمپنیوں کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے ۔ان سب حالات کی وجہ سے عوام کو تکالیف برداشت کرنا پڑ رہی ہیں ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے