میونسپل کارپوریشن و ضلع پریشد اور پنچایت سمیتیوں کے عام انتخابات کب ہونگے؟ 17 مئی کو سپریم کورٹ میں فیصلہ
مہاراشٹر میں انتخابات بارش بعد کیا جائے، بارش میں مشکلات کا سامنا و سیلابی صورتحال سے دقت اور مین پاور کی کمی کا خدشہ، الیکشن کمیشن کی سپریم کورٹ میں عرضداشت دائر
نئی دہلی : 13 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں میونسپل کارپوریشن و ضلع پریشد اور پنچایت سمیتیوں کے عام انتخابات کب ہونگے؟ اس ضمن میں سپریم کورٹ میں سماعت 17 مئی کو ہوگی۔ اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے آج سپریم کورٹ میں اپنی درخواست دائر کردی ہے۔ کمیشن کی درخواست پر عدالت نے سماعت کے لیے 17 مئی کو دوپہر 2 بجے کا وقت مقرر کیا ہے۔ ستمبر میں میونسپل کارپوریشن نگر پنچایت اور اکتوبر میں ضلع پریشد گرام پنچایت لینے کی درخواست کی گئی ہے۔ کیا سپریم کورٹ مانسون کے بعد انتخابات کی اجازت دے گی؟ اسکا جواب 17 مئی کو معلوم ہوسکے گا۔
ریاست میں انتخابات دو مرحلوں میں ہونے کا امکان ہے۔
ریاست میں مانسون کے بعد دو مرحلوں میں انتخابات ہونے کا امکان ہے اور ایک ہی وقت میں میونسپل کارپوریشن، نگر پنچایت اور ضلع پریشد، گرام پنچایت کے انتخابات ہونگے ۔ریاستی انتخابات کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا اکتوبر میں ضلع پریشد اور گرام پنچایت انتخابات کرانے کی اجازت دینے کی سپریم کورٹ سے ریاستی الیکشن کمیشن کی درخواست کو قبول کیا جائے گا یا نہیں؟ ۔ اگر الیکشن کمیشن کی درخواست سپریم کورٹ میں قبول ہوتی ہے تو انتخابات جو پچھلے ڈھائی سالوں سے التوا کا شکار ہیں، مانسون کے بعد دو مرحلوں شہری اور دیہی علاقوں میں منعقد ہونے کا امکان ہے۔
عدالت عظمیٰ نے 4 مئی کو انتخابی عمل کا اعلان دو ہفتوں میں کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کے مطابق الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابات کرانے کا پابند ہے۔ اس لیے یہ تجسس پایا جارہا تھا کہ کیا الیکشن برسات میں ہوں گے۔ تاہم سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کمیشن کو برسات کے موسم میں انتخابات کے انعقاد میں درپیش انتظامی مشکلات کا ذکر عدالت سے کیا گیا ہے۔
ریاستی الیکشن کمیشن مانسون کے بعد دو مرحلوں میں انتخابات کیوں کرائے؟
ریاست میں 15 میونسپل کارپوریشنوں، 25 ضلع پریشدوں، 210 نگر پنچایتوں اور 1900 گرام پنچایتوں کے انتخابات زیر التوا ہیں۔
اگر ان تمام انتخابات کو ایک ساتھ کرانا ہے تو انہیں کم از کم 2 سے 3 مرحلوں میں کرانا ہوگا اور یہ 6 ہفتے تک جاری رہیں گے۔ اگر بارش کے موسم میں انتخابات ہوتے ہیں تو ریاست کے کئی حصوں میں اسکا منفی ردعمل سامنے آسکتا ہے۔کیونکہ ریاستی سرکاری ملازمین سیلاب پر قابو پانے کے کام کاج میں مصروف ہیں۔ اس دوران الیکشن کے ساز و سامان لے جانا مشکل ہو جاتا ہے۔
مزید یہ کہ بارش کے موسم میں ٹرن آؤٹ کم ہونے کا خدشہ ہے۔کمیشن کے پاس ای وی ایم کی تعداد محدود ہے، ایک مرحلے کے لیے استعمال ہونے والی ای وی ایم ہمیں دوسرے دور کے لیے استعمال کرنا ہوں گی۔ بطور ریٹرننگ آفیسر ہمیں انہی لوگوں کو استعمال کرنا ہوگا۔ تمام انتخابات ایک ساتھ کرائے جائیں تو پولنگ اسٹیشنوں پر پولیس فورس مہیا کرنا مشکل ہو جائے گا۔
سپریم کورٹ کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن نے فوری طور پر وارڈز کی تشکیل کا عمل شروع کر دیا ہے۔اور اس ضمن میں کمیشن نے عرضداشت میں کہا کہ ہم ان تمام بلدیاتی اداروں کی ابتدائی کارروائی جون تک مکمل کر لیں گے۔ لیکن اس کے فوراً بعد اگلا عمل بارش کے موسم میں شروع کرنا ہوگا۔ اس لیے کمیشن سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہے کہ ہماری مشکلات پر غور کیا جائے۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے بعد انتخابات چھ ماہ سے زیادہ ملتوی نہیں کیے جا سکتے۔ مزید یہ کہ ٹرپل ٹیسٹ کی تکمیل تک او بی سی ریزرویشن نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے انتخابات کو کسی وجہ سے ملتوی نہیں کیا جانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے الیکشن کی تیاریاں شروع کر دی ہیں تاہم الیکشن کمیشن کی ان مشکلات کو دیکھتے ہوئے دیکھنا یہ ہے کہ عدالت مانسون کے بعد انتخابات کرانے کی اجازت دے گی یا نہیں؟ اس پر مہاراشٹر بھر کی سیاسی جماعتوں کی نظر لگی ہوئی ہیں۔جسکا انتظار 17 مئی کو ختم ہوسکتا ہے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com