وزیر اعظم نریندر مودی کی مدد نہ کرنے دہشت گرد تنظیم ایس ایف جے (سکھ فار جسٹس) کی سپریم کورٹ کے 35 وکلاء کو دھمکی آمیز کلپس
نئی دہلی : 11 جنوری (بیباک نیوز اپڈیٹ) موصولہ خبروں کے مطابق سپریم کورٹ کے تقریباً 35 وکلاء کو خالصتان کے حامیوں کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔ یہ دھمکی سکھس فار جسٹس کے ایک سکھ نمبر سے ایک خودکار فون کال کے ذریعے دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق کال کی آڈیو ریکارڈنگ سے معلوم ہوا کہ فون کرنے والے نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کو پنجاب کے کسانوں اور سکھوں کے خلاف درج مقدمات میں پی ایم مودی کی مدد نہیں کرنی چاہیے۔ فون کلپس میں یہ بھی کہا گیا کہ سکھ فسادات اور ہلاکتوں میں اب تک کسی مجرم کو سزا نہیں سنائی گئی ہے۔
درجنوں وکلاء نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں دھمکی آمیز کلپس موصول ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے سیکرٹری جنرل کو سکھ فار جسٹس کی جانب سے ملنے والی دھمکی سے آگاہ کر دیا ہے۔
آج یہاں سکھ فار جسٹس تنظیم سے وابستہ کچھ ٹویٹر ہینڈل 26 جنوری کو انڈیا گیٹ اور لال قلعہ کی ناکہ بندی کے بارے میں ٹویٹ کر رہے ہیں۔ وہ پی ایم نریندر مودی کے خلاف ناکہ بندی منظم کرنے کے لیے 10 ملین ڈالر کے فنڈ کا اعلان کر رہے ہیں۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com