برطانیہ میں اومیکرون سے پہلی موت درج ، 40 فیصد افراد متاثر ، وزیر اعظم نے بوسٹر ڈوز پر عمل آوری کا فیصلہ لیا

برطانیہ میں اومیکرون  سے پہلی موت درج ، 40 فیصد افراد متاثر ، وزیر اعظم نے بوسٹر ڈوز پر عمل آوری کا فیصلہ لیا 




نئی دہلی: 13 دسمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) کورونا کی نئی قسم کا وائرس پوری دنیا بھرمیں تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے اور اب تک 50 سے زائد ممالک میں اس کے مریض پائے جارہے ہیں ۔اس مرض سے دنیا بھر میں پہلی موت کا ریکارڈ آج برطانیہ میں درج کیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق نئے ویرئنٹ اومیکرون سے برطانیہ میں پہلی موت ہوئی ہے۔ برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برطانیہ میں اومیکرون سے پہلی موت ہوئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ برطانیہ میں اس وقت کورونا سے متاثرہ مریضوں میں سے 40 فیصد اومیکرون سے متاثر ہیں۔ واضح رہے کہ ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن نے کہا ہے کہ دنیا کے63ممالک میں اومیکرون تیزی سے پھیل چکا ہے۔برطانیہ میں اومیکرون کے تیزی سے پھیلاو کو دیکھتے ہوئے کورونا کے بوسٹر ڈوز کی تقسیم کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔
صرف اتوار کو برطانیہ میں 1239 اومیکرون کیس سامنے آئے ہیں۔ برطانیہ میں omicran کے 3100 سے زیادہ کیس  ہو چکے ہیں۔اومیکرون کا پہلا کیس  27 نومبر کو برطانیہ میں سامنے آیا تھا۔ اس کے ساتھ بورس جانسن نے کئی سخت پابندیاں نافذ کرنے‌کا‌اعلان‌کیا‌تھا۔ اس کے علاوہ، اتوار کو انہوں نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کے مختلف انفیکشن سے بچانے کے لیے بوسٹر خوراک لیں جس کے بعد ویکسینیشن مراکز پر بوسٹر ڈوز کے لیے عوام کی کثیر تعداد پہنچ رہی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے