امیر تبلیغی جماعت مولانا سعد کی رقت آمیز دُعا پر اجتماع اختتام پذیر اورنگ آباد تبلیغی اجتماع میں 129 ممالک کے لاکھوں عامتہ المسلمین کی شرکت



امیر تبلیغی جماعت مولانا سعد کی رقت آمیز دُعا پر اجتماع اختتام پذیر

اورنگ آباد تبلیغی اجتماع میں 129 ممالک کے لاکھوں عامتہ المسلمین کی شرکت 




اورنگ آباد :
 ( نمائندہ خصوصی )

اے اللہ ہم گناہوں کے سمند ر میں ڈوبے ہوئے ہیں ، ہمارے گناہوں اور ہماری خطاؤں کو معاف فرما۔ اپنی رضا والے کام میں ہماری مدد فرما ، تقویٰ عطا ء فرما، صبر عطا ء فرما، اے اللہ امت کو دین کا داعی بنادے ، صحابہ کی طرح دین کی محنت کے لیے ہمیں قبول فرما ، اے اللہ مال ودنیا کی محبت ہمارے دلوں سے نکل کر دین کی طرف ہمار رخ کردے ، اے اللہ ہم سب کو دین کے کاموں کے لیے قبول فرما ۔ اے اللہ نبی ﷺ کی امت جو ،وجود میں آئی تھی ، اے اللہ ا غیار کی نظریں اس امت پر جمی ہوئی ہے ، اے اللہ احکام شریعت میں مداخلت اور احکام طریقت میں مداخلت اور روکاوٹیں پید ا ہونے لگی ہیں ، اے اللہ اے اللہ تیرے نبی کی امت بڑے حالات سے گزررہی ہے ،اے اللہ کرم فرما ،اے اللہ رحم فرما ،ان حالات سے نکال کر ثابت قدمی عطاء فرما ۔ اس طرح کی پُر سوز دُعا امیر تبلیغی جماعت مولاناسعد کاندھلوی نے اورنگ آباد کے لمبے جلگائوں میںمنعقدہ سہ روزہ تبلیغی اجتماع کے اختتام پر کی تو اجتماع گاہ میں موجود لاکھوں فرزندان توحید کو زور زور سے روتے اور اپنے مالک حقیقی کے سامنے گڑ گڑا تے ہوئے دیکھا گیا ۔ مولانانے دُعا کرتے ہوئے فرمایا : اے اللہ قدم قدم پر ہماری نصرت فرما ،اے اللہ قدم قدم پر ہماری رہبری فرما، اے اللہ امت کے ایمان کی اعمال کی ، اخلاق کی ، معاشرے کی اور جان و مال کی حفاظت فرما ۔اے اللہ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں، کرم فرما ، رحم فرما ، ہمیں معاف فرما ۔ ذکر ، فکر ، پرحسن عبادت پر ہماری مدد فرما ۔ اے اللہ ہمارے یہاں جمع ہونے کو قبول فرما ، ہمارے ایمان پر فضل فرما ، ہم قدم قدم پر تیری نصرت کے طلب گار ہیں، ہدایت کی بھیک مانگتے ہیں ، ہمیں ہدایت عطا ء فرما ۔ امت مسلمہ کے دلوں میں تعلیم اور ہدایت کو روشن کردے ، اے اللہ اس امت کواُس طرح جمع کردے جس طرح تیرے نبی ﷺ نے کیا تھا ۔ اے اللہ ملت کے لیے دعوت کے راستے کھول دے ۔ بیماروں کو شفا عطا ء فرما ، قرض داروں کو قرض سے نجات عطا ء فرما ، پریشاں حالوں کی پریشانیوں کو دور فرما ،ہماری دُعائوں کو قبول فرما اور جن لوگوں نے دُعا کرنے کے لیے کہا ہے ان کی بھی دُعا ئوں کو قبو ل فرما اور دین والی زندگی گزارنے والا بنا دے اور آخرت میں کامیابی نصیب فرما ۔(آمین ) مولانا سعد نے ۳۷ منٹ تک اللہ کے حضور دُعا کی، شرکاء آمین کی صدا لگا رہے تھے اوراپنے پروردگار کو راضی کرنے کے لیے نم آنکھوں سے اور زور زور سے رورہے تھے ۔ اجتماع کے دوسرے دن رات سے اجتماع کے اختتام تک لاکھوں کی تعدا دمیں مندوبین اجتماع گاہ کے کونے کونے میں نظر آئے ۔ آخری دن فجر کی نماز کے بعد مولانا منظور نے ایمان و یقین پر شرکاء سے خطاب کیا ۔صبح ۱۰؍ سے دوپہر ۱۲؍ بجے تک کتابی ، تعلیم ، تشکیل اور ذکر و فکر کا ماحول شامیانوں میں رہا ۔ دوپہر ۱۲؍ بجے سے ۱۲؍ بج کر ۳۷منٹ تک اجتماعی دُعا کا اہتمام ہوا ۔ دُعا کے بعد پیدل جانے والے شرکاء نے اپنی منزل کا رخ کیا ، نمازظہر کے بعدموٹر سائیکل والے شرکاء نے اجتماع گاہ سے کوچ کیا ۔ دوپہر ۳؍ بجے فور وہیلر گاڑی کو اور شام ۵؍ بجے سے بس اوردیگر بڑی گاڑیوں کواجتماع گاہ سے چھوڑا گیا ۔ اجتماع کے اختتام پر شرپسندوں نے افواہ عام کر دی کے اجتماع گاہ میں بم دھماکہ ہوا ہے ۔ اورنگ آباد شہر ،مہاراشٹر اور جہاں جہاں سے شرکاء اجتماع میں تشریف لائے تھے ان کے رشتے داروں کوپریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ڈپٹی کمشنر آف پویس اور منتظمین اجتماع نے فوراً سوشل میڈیاپر اپنے بیانات جاری کئے اوراس خبر کو بے بنیاد بتایا ۔ شرکائے اجتماع تادم تحریر بذریعہ اپنی نجی گاڑیوں ، ریلوے ، بس اور دیگر ذرائع آمد درفت اپنی منزل کی طرف روانہ ہورہے ہیں ۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ سہ روزہ اجتماع کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور کئی سے کوئی نا خوشگوار واقع پیش آنے کی خبر موصول نہیں ہوئی قبل اس کہ دوسرے دن یعنی کل لاکھوں فرزندان توحید کے پہنچنے سے لمبے جلگاؤں تحصیل میں اجتماع گاہ کھچا کھچ بھرا نظرآیا اور یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں فرزند ان توحید کی آمد سے منتظمین نے اپیل کی ہے کہ صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا جائے اور پیر کوآخری دن دعاء کے بعد گھر روانہ ہوتے ہوئے ڈسپلن کا بھر پور خیال رکھا جائے ،ایسا محسوس ہورہا ہے کہ مولانا سعد کے دھڑے نے اجتماع کی کامیابی کے لیے پوری طاقت لگا دی ہے۔ اورنگ آباد میں اجتماع کے منتظمین اور شہری انتظامیہ نے بھرپورحفاظتی اور احتیاطی انتظامات کیے ہیں۔ اجتماع گاہ کے آس پاس پانچ ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ کمشنر اور اے سی پی رینک کے تین اعلیٰ افسران کی نگرانی میں 25پولیس انسپکٹرس اور 70 انسپکٹرس کے ساتھ سات ایس آر پی ایف کی چار کمپنیاں اور ایک ہزارٹریفک پولیس اہلکار اور بم اسکوڈ موجود ہے۔

علاقے میں بجلی اور پانی کی فراہمی کا معقول انتظام ہے اور دیہاتیوں کا مکمل تعاون حاصل ہے ۔ فائرعملہ اور محکمہ صحت کا عملہ بھی سرگرم ہے جبکہ مہاراشٹرالیکٹرسٹی سپلائی کا محکمہ کے انجنیئر اور عملہ رات دن موجود ہے تاکہ سپلائی میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہو۔ اس اجتماع کے انعقاد میں حکومت کا بھی خاموش تعاون حاصل ہے۔ اجلاس کے آخری دن یعنی آج پیر کو حکومت مہاراشٹر نے تمام مسلم اسکولوں کی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے تاکہ لوگ دعا میں شریک ہو سکیں۔ موصول اطلاع کے مطابق اورنگ آباد اجتماع میں 129 ممالک سے70 ہزار سے زائد شرکاء کی شرکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
امیرانتظامی امور تبلیغی اجتماع کے مطابق عالمی تبلیغی اجتماع میں حضرت مولانا محمد سعد کی موجودگی میں ملک وبیرونی ملک سے لاکھوں بندگان توحید پہنچے۔ ملک بھر سے اللہ کے دین کی سربلندی کے متمنی نوجوان اجتماع گاہ کی زمین کو ہموار کرنے سے شامیانے لگانے ،وضو خانوں ، طہارت خانوں اور دیگر امور کو مکمل کرنے میں دن رات ایک کیا جب جاکر یہ جگہ تیار ہوئی۔  لاکھوں فرزندان توحید اجتماع گاہ میں موجود تھے۔  امیرانتظامی امور تبلیغی اجتماع کے مطابق عالمی تبلیغی اجتماع میں حضرت مولانا محمد سعد کی موجودگی میں ملک وبیرونی ملک سے لاکھوں بندگان توحید پہنچے۔

واضح رہے کہ اجتماع کی تیاریوں میں سماج کے تمام افراد نے بھر پور تعاون کیا ہے۔ خصوصاً برادران وطن بھی ہرممکن مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے اجتماع گاہ کے لیے اپنی زمین مفت فراہم کی ہے۔ 87 لاکھ مربع فٹ اراضی پر وسیع و عریض پنڈال ( شامیانے ) نصب کیے گئے ہیں۔ جس میں تقریباً 10 لاکھ افراد کے بیٹھنے اورسونے کا انتظام کیا گیا ہے۔3 ہزار سے زائد علماء کرام و حفاظ عظام کے قیام و طعام کانظم علیحدہ کیا گیاہے۔ اسٹیج 2570مربع فٹ کا بنایا گیا ہے۔ شامیانے کو چالیس حصوں میں تقسیم کیاگیا۔ ریاست مہاراشٹر کے 32 اضلاع کے لیے علیحدہ شامیانے بنائے گئے ہیں، مہاراشٹر کے تمام اضلاع کے علاوہ اترپردیش ، گجرات ، راجستھان ، مدھیہ پردیش ، آندھرپردیش، تلنگانہ ، کرناٹک ، کیرالا ، تمل ناڈو اور دیگر ریاستوں کے علاوہ بیرونی ممالک میں قیام پذیرہندستانی اور دیگر ممالک کے تبلیغی ذمہ داران بھی عالمی مشورہ میں شرکت کئے 







ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے