طلاق ثلاثہ بل غیر ضروری، شریعت و آئین ہند کے خلاف:عمرین محفوظ رحمانی

طلاق ثلاثہ بل غیر ضروری، شریعت و آئین ہند کے خلاف:عمرین محفوظ رحمانی

حکمرانوں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ بل واپس لے ورنہ..، مسلم پرسنل لاءکو شدید خطرات لاحق : عبدالحمید ازہری
مالیگاؤں میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علماء کی آمد


مالیگاؤں (زاہد بیباک)
17 جنوری بروز بدھ کو آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر حضرت مولانا سید رابع حسنی ندوی، اور سیکرٹری مولانا سید محمد ولی رحمانی کی مالیگاؤں آمد پر انصار جماعت خانہ میں خواتین کے لئے خصوصی اجلاس دوپہر میں منعقد ہوگا جبکہ مغرب بعد مشاورت چوک میں تحفظ شریعت کانفرس ہوگی اس طرح کی تفصیل آج اردو میڈیا سینٹر میں بورڈ کے جوائنٹ سکریٹری مولانا عمرین محفوظ نے دی انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل پر مسلمانوں میں بیداری لانے بل الخصوص عورتوں میں دین کے حقیقی پیغام کو عام کرنے اجلاس کا انعقاد کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل غیر ضروری اور شریعت اسلامی و آئین ہند کے خلاف ہے اس طرح کا اظہار آج مالیگاؤں اردو میڈیا سینٹر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کیا انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ بل پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے شدید مخالفت کی حکومت سے لڑا اور سخت انداز میں کہا کہ مسلمان شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کر سکتا اس ضمن میں انہوں نے بورڈ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ جہاں بورڈ نے محنت کی وہیں اپوزیشن نے پرسنل لاء بورڈ کے موقوف پر حکومت کی سخت مخالفت کی جس سے بل راجیہ سبھا میں معلق ہے لیکن ڈر و خدشات ہے کہ حکومت طلاق ثلاثہ بل پھر لائے گی انہوں نے کہا کہ یہ بل IPC کی دفعات میں ایکدوسرے سے خود ٹکرا رہا ہے اس لیے یہاں بل خود آئین ہند کے خلاف ہے مولانا عمرین نے کہا کہ اگر شوہر جیل جائے گا تو اسکی بیوی کی کفالت کون کریگا اس کا سماجی و معاشی نظام درہم برہم ہو جائے گا بیوی دوسرا نکاح بھی نہیں کرسکتی جیسے بیشمار مسائل ہیں جس سے مسلم خاندان تباہ و برباد ہوجائے گا انہوں نے اس بل کو روکنے کا مطالبہ دوہرایا مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کہ جمہوریت میں من مانی نہیں چلے گی آل انڈیا سیکرٹری نے کہا کہ حکومت پرسنل لاء بورڈ کو ختم کر یونیفارم سول کوڈ لانا چاہتی ہے جو کہ مسلمان برداشت نہیں کر سکتا یہاں بورڈ کے رکن مولانا عبدالحمید ازہری نے کہا کہ اس وقت پورا مسلم پرسنل لاء شدید خطرات سے لاحق ہے انہوں نے حکمرانوں کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ طلاق ثلاثہ بل واپس لے لیں ورنہ سخت نتائج سامنے ہونگے تب بہت دیر ہوچکی ہوگی یہاں پر بین المسالک علماء کرام میں جماعت اسلامی کے صدر فیروز اعظمی، جمعیت اہل سنت کا مولانا فضل الرحمن محمدی، بوہرہ جماعت و شیعہ جماعت نے بھی اپنی شرکت درج کر حمایت کا اعلان کیا ہے اس موقع پر مولانا جمال عارف ندوی، قاری اخلاق، مولانا عبدالحمید جمالی، شاکر شیخ سر، جمال ناصر و دیگر شریک تھے مولانا عمرین محفوظ نے مالیگاؤں سمیت اطراف کی عوام زیادہ ہے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر اجلاس کو کامیاب بنائیں تاکہ حکومت وقت کو پتہ چلے کہ مسلمان شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کر سکتا

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے