شریعت کا خود غرضانہ استعمال اور موجودہ ایم ایل اے کا دوہرا معیار،سیاست میں مذہب کے استعمال پر سخت اعتراض



شریعت کا خود غرضانہ استعمال اور موجودہ ایم ایل اے کا دوہرا معیار،سیاست میں مذہب کے استعمال پر سخت اعتراض قائم، سیاسی جنگ جاری رہیگی 



​سپریم کورٹ کے فیصلے پر اصل فیصلہ اب عوامی عدالت میں ہوگا: پریس کانفرنس میں مستقیم ڈگنیٹی کا اظہارِ خیال




​مالیگاؤں: 27 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ)سپریم کورٹ کی جانب سے الیکشن پٹیشن کے سلسلے میں آئے حالیہ فیصلے کے بعد سماجوادی پارٹی کے یوا نیتا مستقیم ڈگنیٹی نے پارٹی آفس پر شب دس بجے ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اگرچہ موجودہ ایم ایل اے کے حق میں آیا ہے، لیکن قانونی اور سیاسی جنگ یہاں ختم نہیں ہوتی۔انہوں نے واضح کیا کہ ہائی کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک یہ قانونی لڑائی آخری وقت تک لڑی گئی، تاہم سپریم کورٹ میں جس گراؤنڈ اور میرٹ پر سماعت ہونی چاہیے تھی، اس طرح سماعت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ ہر وہ فیصلہ جو سپریم کورٹ سے آئے، لازمی نہیں کہ وہ درست ہی ہو؛ ماضی میں بھی کئی ایسے فیصلے آئے ہیں جن پر ایک رائے قائم نہیں ہوسکی۔
​

پریس کانفرنس میں الیکشن کے دوران مذہب اور مذہبی اداروں کے استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ سیاست کو سیاست کی جگہ اور مذہبی معاملات کو مذہب کی جگہ ہونا چاہیے۔الیکشن کے موقع پر مساجد، ممبر اور مذہبی جذبات کا استعمال کرنا، یا پمفلٹ کے ذریعے مفتی اسمٰعیل کو ووٹ دینے کو ثواب اور دیگر کو گناہ قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ہو یا ایم آئی ایم یا موجودہ ایم ایل اے، ہم ہر اس سوچ اور رویے کے خلاف ہیں جو سیاست میں مذہب کا استعمال کر کے ملک اور شہر کے حالات خراب کرتی ہے۔

​

انہوں نے الزام لگایا کہ مخالفین نے ہمیشہ اپنے مفاد کے لیے شریعت اور مذہبی اصولوں کو استعمال کیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کے وقت خواتین کے الیکشن لڑنے اور ان کی سرپرستی سے متعلق شریعت کا حوالہ دے کر اعتراضات اٹھائے گئے، لیکن کارپوریشن انتخابات کے دوران جب اپنے مفاد کی بات آئی تو جنرل سیٹ پر بھی خواتین کو امیدوار بنا کر میدان میں اتارا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کارپوریشن الیکشن کے وقت شریعت اور مذہبی اصول کہاں چلے گئے تھے؟ یہ دوہرا معیار ان کی سیاسی ناکامی اور تکبر کو ظاہر کرتا ہے۔پریس کانفرنس میں مستقیم ڈگنیٹی کہا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود مالیگاؤں کی عوام بیدار ہے اور سب کچھ سمجھتی ہے۔کارپوریشن الیکشن میں عوام نے ان کے غرور اور تکبر کو توڑ کر ہمیں اپنا فیصلہ سنایا تھا، جس کے نتیجے میں اج ہم ڈپٹی میئر ،گٹ نیتا اور اسٹینڈنگ کمیٹی چیئرمین جیسے اہم عہدوں پر فائز ہو کر شہر کی ترقی کے لیے کام کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب اصلی اور حتمی فیصلہ 'عوامی عدالت' میں ہوگا اور انے والے انتخابات میں مالیگاؤں کی عوام کارکردگی اور کام کی بنیاد پر اپنا فیصلہ سنائے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے