مہاراشٹر میں اقلیتی طلبہ کیلئے نئی اسکالرشپ پالیسی کا اعلان، درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن



مہاراشٹر میں اقلیتی طلبہ کیلئے نئی اسکالرشپ پالیسی کا اعلان، درخواست کا عمل مکمل طور پر آن لائن


مسلمان،بدھ،عیسائی،جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے طلباء توجہ دیں 



مہا ڈی بی ٹی پورٹل پر درست معلومات بھرنے اقلیتی محکمہ کی تمام کالجوں،تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت 



ممبئی: 6 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ): مہاراشٹر حکومت کے محکمہ اقلیتی ترقی نے ریاست کے اقلیتی طلبہ کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی سال 2026-27 سے تمام اسکالرشپ اسکیموں کو "مہا ڈی بی ٹی" نامی مربوط کمپیوٹرائزڈ نظام کے ذریعے نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد اسکالرشپ کی درخواست، جانچ اور رقم کی تقسیم کے عمل کو مزید آسان، شفاف اور تیز رفتار بنانا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کردہ حکم نامہ نمبر اویوی-2026/پر.ک.60/کا.6 کے مطابق مسلمان، بدھ، عیسائی، جین، سکھ، پارسی اور یہودی برادریوں سے تعلق رکھنے والے معاشی طور پر کمزور اور باصلاحیت طلبہ کو اعلیٰ پیشہ ورانہ، تکنیکی، غیر پیشہ ورانہ ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ تعلیم کے لیے دی جانے والی اسکالرشپس اب مہاراشٹر ڈی بی ٹی 2.0 پورٹل کے ذریعے آن لائن فراہم کی جائیں گی۔حکومت نے واضح کیا ہے کہ اسکالرشپ اسکیم کی بنیادی شرائط، اہلیت کے معیار، آمدنی کی حد اور مالی فوائد میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ صرف درخواست جمع کرانے، جانچ کے طریقہ کار اور رقم کی ادائیگی کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے مربوط کیا گیا ہے تاکہ طلبہ کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔


نئے نظام کے تحت ہر طالب علم کو آدھار سے منسلک ایک مستقل شناختی نمبر (APAAR ID) فراہم کیا جائے گا، جس کی بدولت ہر سال نئی رجسٹریشن کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔طلبہ کی ذاتی اور تعلیمی معلومات، جیسے ایس ایس سی و ایچ ایس سی نمبر، سی ای ٹی اسکور اور آدھار کی تفصیلات، متعلقہ سرکاری ڈیٹا بیس سے خودکار طور پر حاصل کی جائیں گی، جس سے دستاویزات اسکین کرکے اپ لوڈ کرنے کی دشواری میں نمایاں کمی آئے گی۔اس کے علاوہ اگلے تعلیمی سال میں اسکالرشپ کی تجدید کے لیے طلبہ کو صرف موجودہ سال کی فیس رسید اور تعلیمی پیشرفت (پاس یا فیل) کی معلومات فراہم کرنا ہوں گی، جس کے بعد درخواست خودکار طور پر تجدید ہو جائے گی۔ جانچ کے عمل کو بھی آسان بناتے ہوئے صرف دو مراحل مقرر کیے گئے ہیں، جن میں پہلا مرحلہ متعلقہ کالج یا تعلیمی ادارے کی سطح پر جبکہ دوسرا مرحلہ متعلقہ ڈائریکٹوریٹ کی سطح پر مکمل کیا جائے گا۔حکومت نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ منظور شدہ اسکالرشپ کی رقم براہ راست طالب علم کے آدھار سے منسلک اور ای-کے وائی سی (e-KYC) شدہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل کی جائے گی، جس سے ادائیگی میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل کا خاتمہ ہوگا۔


اسکالرشپ اسکیم کے مؤثر نفاذ کے لیے حکومت نے نوڈل افسران بھی مقرر کیے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ اور تکنیکی کورسز کے لیے ڈائریکٹر آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور ڈائریکٹر آف میڈیکل ایجوکیشن ذمہ دار ہوں گے، جبکہ آرٹس، کامرس اور سائنس کے طلبہ کے معاملات کی نگرانی ڈائریکٹر آف ہائر ایجوکیشن کریں گے۔محکمہ اقلیتی ترقی نے تمام کالجوں، تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مہائی ڈی بی ٹی پورٹل پر طلبہ کی درست اور بروقت معلومات درج کریں اور اسکالرشپ کی رقم کے علاوہ کسی بھی قسم کی اضافی فیس وصول نہ کریں۔حکومت کا کہنا ہے کہ "مہاشیش ورُتی" نظام کے نفاذ سے نہ صرف طلبہ کے لیے اسکالرشپ حاصل کرنے کا عمل زیادہ سہل، شفاف اور تیز ہوگا بلکہ انتظامی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئے گی، جس سے اقلیتی برادری کے ہزاروں طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں براہ راست فائدہ پہنچے گا۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے