کمبھ میلہ کے فرضی ورک آرڈر کے ذریعے مالیگاؤں کے کنٹریکٹر سے 35 لاکھ کی ٹھگی،ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ درج

 

کمبھ میلہ کے فرضی ورک آرڈر کے ذریعے مالیگاؤں کے کنٹریکٹر سے 35 لاکھ کی ٹھگی،ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ درج


کمبھ میلہ کے فرضی ورک آرڈر کے ذریعے مالیگاؤں کے کنٹریکٹر سے 35 لاکھ کی ٹھگی،ناسک روڈ پولس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ درج  




300 کروڑ کا ٹینڈر دینے کا جھانسہ، 6 ملزمان گرفتار، پولس تفتیش جاری 





​ناسک/مالیگاؤں: 17 اگست(بیباک نیوز اپڈیٹ) سنگھستھ کمبھ میلے کے نام پر جعلی ٹینڈر اور جعلی ورک آرڈر دے کر رقم بٹورنے والے گینگ کی جعل سازی کا دائرہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔ تازہ ترین واقعہ میں مالیگاؤں (سوئے گاؤں) کے ایک سڑک تعمیراتی کنٹریکٹر اور تاجر سوریش مہندر پوار سے کمبھ میلے کے کام دلانے کا جھانسا دے کر 35 لاکھ روپے ہڑپ لیے گئے۔ اس معاملے میں ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں پانچواں مقدمہ (FIR) درج کیا گیا ہے۔  

​ 
اطلاعات کے مطابق جامنیر (ضلع جلگاؤں) سے تعلق رکھنے والے شکیل احمد شیخ، تنئے مہاجن اور نریندر مہاجن نامی افراد نے کنٹریکٹر سوریش پوار سے رابطہ کیا تھا۔ ملزمان نے انہیں کمبھ میلے کے تحت سڑکوں کی تعمیر کے لیے 300 کروڑ روپے کے ٹینڈر نکلنے کا جھانسا دیا اور کام دلانے کی یقین دہانی کرائی۔ اعتماد حاصل کرنے کے لیے ملزمان نے حکومتِ ہند کا قومی نشان (راج مدرا) والا جعلی لیٹر ہیڈ، ناسک میونسپل کارپوریشن کا ٹینڈر نوٹس نمبر، اور کمبھ میلہ اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر پروین گوڈام کی جعلی ڈیجیٹل دستخط والے فرضی ورک آرڈرز دکھائے۔  
ٹینڈر منظور کرانے اور کارروائی کے نام پر ملزمان نے کانٹریکٹر سے مرحلہ وار 50 لاکھ روپے وصول کیے۔ جب کافی وقت گزرنے کے بعد بھی کام شروع نہیں ہوا اور ٹھیکہ دار کو ان پر شک ہوا تو انہوں نے اپنی رقم واپس مانگنی شروع کی۔ ملزمان نے اپنے اکاؤنٹنٹ کے ذریعے تاجر کو 15 لاکھ روپے تو واپس کر دیے، لیکن بقایا 35 لاکھ روپے لوٹانے کے بجائے ٹال مٹول کرنے لگے۔ بالآخر سوریش پوار نے پولس سے رجوع کر کے باقاعدہ شکایت درج کرائی۔  


ناسک پولیس اب تک اس گروہ کے چھ ملزمان (تنئے مہاجن، نریندر مہاجن، شعیب احمد شیخ، عبد الرئیس شیخ، شکیل احمد شیخ اور محمد وسیم) کو جلگاؤں کے جامنیر سے گرفتار کر چکی ہے۔ تمام ملزمان کی پولس کسٹڈی ختم ہونے پر انہیں دوبارہ عدالت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ پولس کا کہنا ہے کہ اس ریکیٹ میں اور بھی لوگ شامل ہو سکتے ہیں اور معاملے کی مزید گہرائی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے