سرکاری اسکولوں کے تعلق سے ابھیجیت دیپکے کی تجاویز پر وزیر تعلیم دادا بھسے کا خیرمقدم
ہم حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں، سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے کیلئے سرکار پابند :دادا بھسے
مالیگاؤں : 21 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیئرمین ابھیجیت دیپکے نے ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے تحت لاٹور ضلع کی اؤسا تحصیل کے اوجنی گاؤں میں واقع ضلع پریشد اسکول کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مہاراشٹر کے اسکول ایجوکیشن منسٹر دادا بھوسے سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ابھیجیت دیپکے کی ’اسکول ٹھیک کرو‘ مہم کے ذریعے سرکاری اسکولوں کے بنیادی ڈھانچے، سہولیات اور تعلیمی معیار سے متعلق مسائل کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اوجنی گاؤں کے دورے کے بعد سرکاری اسکولوں کی صورتحال اور حکومت کی ذمہ داری ایک بار پھر ریاستی سطح پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔
ابھیجیت دیپکے کے مطالبے پر ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسکول ایجوکیشن منسٹر دادا بھوسے نے ان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دیپکے نے جن اسکولوں میں خامیاں اور بے قاعدگیاں پائی ہیں، ان کی اصلاح ضروری ہے اور محکمۂ تعلیم نے ان تمام امور کو مثبت انداز میں لیا ہے۔دادا بھوسے نے کہا کہ محکمۂ تعلیم کی جانب سے ضروری اصلاحات کے لیے کام جاری ہے اور حکومت ریاست بھر میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور طلبہ کو بہتر بنیادی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔
خیال رہے کہ ابھیجیت دیپکے نے کہا تھا کہ ریاست کے کئی سرکاری اسکول آج بھی بنیادی مسائل سے دوچار ہیں۔ بعض اسکولوں کی چھتوں سے بارش کا پانی ٹپکتا ہے، طلبہ کے بیٹھنے کے لیے مناسب بینچیں دستیاب نہیں اور دیگر بنیادی سہولیات کا بھی فقدان ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ دس برسوں میں حکومت ان بنیادی مسائل کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔دیپکے نے کہا کہ وزراء اور ارکانِ اسمبلی کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو بھی سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلائیں، تاکہ انہیں ان اسکولوں میں زیرِ تعلیم بچوں کو درپیش حقیقی مشکلات کا اندازہ ہو سکے۔ انہوں نے سرکاری اسکولوں کی موجودہ صورتحال پر سخت الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسکولوں کی حالت ایسی ہی رہی تو تعلیمی وزیر کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی جواز نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت نے سرکاری اسکولوں کے مسائل فوری طور پر حل نہیں کیے تو گاؤں گاؤں میں ’جنتر منتر‘ جیسی تحریکیں شروع کی جائیں گی۔ دیپکے نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بعض مقامات پر اسکولوں کے معائنے کے وقت دوسرے اسکولوں کے طلبہ کو لاکر موجود دکھایا گیا، جبکہ متعلقہ اسکول کے اصل طلبہ کی تعداد اس سے کم تھی۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com