مالیگاؤں:800 مکانات پر خطرہ، سروے نمبر 114 کی بستی پر آباد مکینوں کی خریدی رد!



مالیگاؤں:800 مکانات پر خطرہ، سروے نمبر 114 کی بستی پر آباد مکینوں کی خریدی رد! 




پریشان عوام نے اسلام پارٹی کے قائد آصف شیخ کو طلب کیا،ہر ممکن مدد کرنے آصف شیخ کا تیقن 




مالیگاؤں : 16 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) سروے نمبر 114 کی بستی کے رہائشیوں نے اسلام پارٹی کے قائد اور ایم ایل اے آصف شیخ کو اپنے علاقے میں بلایا۔ آصف شیخ نے بستی والوں سے خطاب کرتے ہوئے اس زمینی تنازعے کی تفصیلات بتائیں اور قانونی جدوجہد کی یقین دہانی کرائی۔آصف شیخ نے کہا کہ تقریباً ڈیڑھ سال پہلے انہوں نے پارٹی کے ذمہ داران اور چار پانچ کارپوریٹرز کو اس جگہ پر بھیجا تھا کیونکہ انہیں اندیشہ تھا کہ یہاں کوئی قانونی مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ ان ذمہ داران نے مسجد کے ٹرسٹیز اور علاقے کے بزرگوں سے ملاقات کی تھی لیکن بعد میں کوئی واپس نہیں آیا۔ آج بستی والوں نے خود انہیں بلایا ہے اور وہ ان کی دعوت پر آئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پہلے یہاں ایک قبائلی کسان کاشت کاری کرتا تھا جو زمین کا اصل مالک تھا۔ اس نے زمین کسی شخص کو فروخت کردی اور پھر اس شخص نے پلاٹوں میں بانٹ کر بستی والوں کو فروخت کر دی۔ لوگ یہاں گھر، کارخانے ، مسجد اور مدرسہ بنا کر رہ رہے ہیں۔ اب مہاراشٹر حکومت نے ان خریداریوں کو منسوخ کر دیا ہے۔ سات بارہ سے خریداروں کے نام کاٹ دیے گئے ہیں اور اصل کسان (کدم) کا نام دوبارہ درج کر دیا گیا ہے۔ اس طرح خریداری مکمل طور پر کالعدم قرار دے دی گئی ہے۔


آصف شیخ کے مطابق اب اس زمین کو دوبارہ قانونی بنانے کے لیے حکومت کو “پٹ” یعنی پریمیم ادا کرنا ہوگا۔ اس کی رقم کروڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔کچھ لوگ بارہ کروڑ، کچھ پچیس کروڑ اور کچھ بیالیس کروڑ کی بات کر رہے ہیں۔ اصل رقم ابھی واضح نہیں لیکن یہ کروڑوں کا معاملہ ہے۔ اس کے علاوہ اگر معاملہ نہ حل ہوا تو حکومت ان مکانات کو انکروچمنٹ قرار دے کر کارروائی بھی کر سکتی ہے۔
انہوں نے بستی والوں سے کہا کہ پہلے اتحاد قائم کریں۔ یہاں تقریباً آٹھ سو گھر اور پچاس ساٹھ کارخانے ہیں۔ ہر گھر والے مل کر ایک پنچ کمیٹی بنائیں اور تمام کاغذات جمع کریں۔ سات بارہ کے اتارے ، نوٹری، پلاٹ کے کاغذات، آدھار کارڈ اور دیگر دستاویزات الگ الگ بنا کر رجسٹر میں نام اور گھر نمبر لکھیں۔

آصف شیخ نے یقین دلایا کہ سیکولر فرنٹ (اسلام پارٹی اور سماج وادی پارٹی) اس قانونی جنگ میں بستی والوں کے ساتھ کھڑا ہے۔ یہ معاملہ ممکنہ طور پر ممبئی ہائی کورٹ تک جائے گا کیونکہ فیصلہ ریونیو محکمہ نے دیا ہے۔ انہوں نے سروے نمبر 110 کی مثال دی جہاں پہلے بھی اسی طرح کا معاملہ ہوا تھا اور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ تک جا کر سٹے حاصل کیا گیا تھا۔آخر میں آصف شیخ نے کہا کہ پہلے بستی والے خود اتفاق رائے پیدا کریں پھر قانونی لڑائی لڑی جائے گی تاکہ گھر اور زمین محفوظ رہ سکیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے