شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ: 160 کروڑ کی مبینہ بدعنوانی میں نیا موڑ
چار اضلاع کے ایجوکیشن آفیسران سے ناسک ایس آئی ٹی کی جانب سے پوچھ گچھ شروع
ناسک:22 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر کے تعلیمی شعبے میں سامنے آنے والے تقریباً 160 کروڑ روپے کے مبینہ شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے کی تحقیقات میں ایک نیا موڑ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ایسے افراد کو بھی اساتذہ کے طور پر ظاہر کیا گیا جن کی باقاعدہ تقرری نہیں ہوئی تھی، اور انہیں سرکاری خزانے سے تنخواہوں و دیگر مالی فوائد کی ادائیگی کی گئی۔ذرائع کے مطابق اس معاملے میں 841 مبینہ فرضی تقرریوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں بڑی تعداد دھولیہ اور جلگاؤں اضلاع سے متعلق بتائی جارہی ہے۔ پولس کا الزام ہے کہ جعلی تقرری اور منظوری سے متعلق دستاویزات کی بنیاد پر شالارتھ آئی ڈی تیار کی گئیں، جس کے بعد سرکاری خزانے سے تنخواہ اور بقایاجات کی ادائیگی کا راستہ ہموار ہوا۔
تحقیقات کے دوران پولس کو مطلوبہ اہم دستاویزات فراہم نہ کیے جانے کی وجہ سے تفتیش میں رکاوٹ پیدا ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ اسی معاملے پر ناسک کے ڈپٹی کمشنر آف پولس سندیپ مٹکے نے ناسک، دھولیہ، جلگاؤں اور نندوربار اضلاع کے ایجوکیشن آفیسران کو طلب کیا اور ان سے متعلقہ ریکارڈ کے بارے میں وضاحت طلب کی۔پولس کی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ اس مبینہ گھوٹالے کا دائرہ وسیع ہے اور کئی تعلیمی اداروں، افسران اور دیگر متعلقہ افراد کے کردار کی جانچ کی جارہی ہے۔ ایک الگ رپورٹ کے مطابق تقریباً 1200 افراد پولس کی جانچ کے دائرے میں آئے ہیں، جن میں اسکول سربراہان، ٹرسٹیز اور محکمہ تعلیم کے مختلف افسران شامل ہیں۔
اس معاملے میں شندورنی ایجوکیشن سوسائٹی سے وابستہ سنجے گروڈ کی بھی گرفتاری ہوچکی ہے۔ پولس کے مطابق ان پر مبینہ طور پر جعلی تقرری منظوری اور شالارتھ آئی ڈی کے ذریعے سرکاری تنخواہوں کی ادائیگی کے معاملے میں کردار ادا کرنے کا شبہ ہے۔ تاہم، اس معاملے میں حتمی ذمہ داری کا تعین پولس تحقیقات اور عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی ہوگا۔شالارتھ آئی ڈی مہاراشٹر کے اسکولوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کی تنخواہوں سے متعلق سرکاری نظام ہے۔ اس گھوٹالے کے بعد محکمہ تعلیم نے شفافیت بڑھانے کے لیے اسکول ملازمین سے متعلق تقرری، شالارتھ آئی ڈی، ملازمت اور تنخواہ سے متعلق معلومات آن لائن دستیاب کرانے کے اقدامات بھی کیے ہیں۔پولس اب متعلقہ تعلیمی ریکارڈ، تقرری کے کاغذات، ڈیجیٹل اندراجات اور مالی لین دین کی جانچ کررہی ہے۔ تحقیقات آگے بڑھنے کے ساتھ مزید افراد یا اداروں کے خلاف کارروائی کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com