تین دنوں کے سرچ آپریشن کے بعد گرنا ڈیم کے قریب ملی محمد عادل کی لاش،عوام کو ندی سے دور رہنے فائرمین شکیل تیراک و ٹیم کی شہریان سے اپیل



تین دنوں کے سرچ آپریشن کے بعد گرنا ڈیم کے قریب ملی محمد عادل کی لاش،عوام کو ندی سے دور رہنے فائرمین شکیل تیراک و ٹیم کا مشورہ  



مالیگاؤں : 27 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) گِرنا ندی میں ڈوبنے والے نوجوان عادل کی لاش تین دن کی مسلسل تلاش کے بعد پیر کے روز تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر دور گرنا ڈیم کے قریب سے برآمد کر لی گئی۔ فائر بریگیڈ کی ٹیم نے لاش کو باہر نکال کر سول ہسپتال منتقل کر دیا۔شکیل تیراک کے مطابق جمعہ 24 جولائی کو شام پانچ بجے کے قریب گرنا و موسم ندی کے سنگم پر واقع بھکن شاہ درگاہ کے قریب سے دو نوجوان پانی میں نہانے گئے تھے۔جس میں ایک نوجوان بہی گیا تھا ۔اسی دن سے فائر بریگیڈ کی ٹیم نے تلاش کا آپریشن شروع کر دیا تھا۔ فائر بریگیڈ کے اہلکار شکیل تیراک نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح فجر کے بعد سے شام تک تلاش جاری رکھتے رہے اور یہ سلسلہ تین دن تک چلتا رہا۔27 جولائی کو صبح سوندگاؤں کے سامنے سے سرچ کا آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا۔ ڈیم کے پانی کے بہاؤ کی وجہ سے لاش دور جا کر ٹھہر گئی تھی۔ مقامی افراد نے لاش دیکھی تو فائر بریگیڈ اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ کنسٹبل جادھو اور مورے کو موقع پر بلایا گیا اور لاش کو باہر نکال کر ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال بھیج دیا گیا۔


فائر بریگیڈ کے شکیل تیراک نے بتایا کہ اللہ کے فضل سے تین دن کی مسلسل محنت کے بعد کامیابی ملی۔ تلاش میں شامل ٹیم میں سنجے پوار، منوہر سیسگے، روی سیجواد، شبھم، کولپے اور ڈرائیور ذاکر وغیرہ شامل تھے۔ملیگاؤں عوام میں اس واقعے سے گہری تشویش پائی جا رہی تھی۔ کئی سماجی کارکنوں، وارڈ ممبران اور مقامی رہنماؤں نے مسلسل رابطہ رکھتے ہوئے سرچ آپریشن کی صورتحال معلوم کی۔اس موقع پر شفیق اینٹی کرپشن نے عوام اور بچوں کو مشورہ دیا کہ ندی اور ڈیم میں نہانے سے گریز کریں، خاص طور پر جب پانی زیادہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ دوستوں کے درمیان چیلنج لے کر پانی میں کودنے سے اکثر حادثات ہوتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مالیگاؤں میں بھی سیکشن 163 نافذ کیا جائے تاکہ گِرنا اور موسم ندی میں نہانے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہو سکے اور اس طرح کے حادثات روکے جا سکیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے