بڑی خبر! بوگس شالارتھ آئی ڈی گھوٹالہ،سابق ایجوکیشن آفیسر گرفتار، 1200 افراد ایس آئی ٹی کے نشانے پر
ناسک SIT کی کارروائی،ناسک، جلگاؤں،دھولیہ اور نندربار اضلاع کے 459 اساتذہ و غیر تدریسی ملازمین پر الزام
ناسک : 27 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ایک طرف دارالحکومت دہلی میں NEET پیپر لیک معاملے اور ملک کے تعلیمی نظام میں بدعنوانی کو لے کر احتجاج جاری رہا تھا۔ جہاں ملک بھر میں والدین اور طلباء اپنے غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں وہیں محکمہ تعلیم میں ایک اور گھپلہ سامنے آیا ہے۔ ناسک کرائم برانچ و ایس آئی ٹی نے فرضی شالارتھ آئی ڈی بنا کر حکومت کو 160 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے اس وقت کے ایجوکیشن آفیسر ششی کانت بھوراوہنگانیکر (عمر 66) کو دھولیہ سے گرفتار کیا ہے۔ اس کارروائی سے محکمہ تعلیم میں پھر ایک بار ہلچل مچ گئی ہے اور محکمہ تعلیم کی انتظامیہ ایک بار پھر سرخیوں میں آ گئی ہے۔متعلقہ ایجوکیشن آفیسر کے خلاف تعزیرات ہند 2023 اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کے تحت ناسک روڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں الزام ہے کہ ناسک، جلگاؤں، دھولیہ اور نندربار اضلاع کے 459 اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین فرضی شالارتھ آئی ڈی بنانے اور تنخواہ اور بقایا جات نکالنے میں ملوث تھے۔پولس کی جانچ کے مطابق یہ پتہ چلا ہے کہ ششی کانت ہنگانیکر نے جلگاؤں ضلع پریشد میں سیکنڈری ایجوکیشن آفیسر کے طور پر کام کرتے ہوئے بغیر کسی جائز تجویز کے فرضی اپروول کو منظوری دی تھی۔ پولس نے بتایا ہے کہ اس پورے گھوٹالے میں اب تک تقریباً 1200 افراد SIT کے نشانے پر ہے۔
پولس کے مطابق خفیہ معلومات اور تکنیکی تجزیہ کی بنیاد پر کرائم برانچ (ایس آئی ٹی) کی ایک ٹیم نے دھولیہ میں جال بچھا کر ہنگنیکر کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد اسے ناسک روڈ پولس اسٹیشن لایا گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ اس معاملے کی مزید تفتیش ناسک ایس آئی ٹی کے ذریعہ سینئر افسران کی رہنمائی میں جاری ہے، اور اس گھوٹالے میں ملوث دیگر افراد کے رول کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com