​شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والی ملعون نازیہ الٰہی خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کا مطالبہ، آل انڈیا سنی جمعتہ الاسلام' کا اے ایس پی کو میمورنڈم


​شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والی ملعون نازیہ الٰہی خان کے خلاف FIR درج کرنے کا مطالبہ


 ​سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے کا بھی مطالبہ، کارروائی نہ ہونے پر احتجاج کا انتباہ، آل انڈیا سنی جمعتہ الاسلام' کا اے ایس پی کو میمورنڈم


​مالیگاؤں: 23 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) سوشل میڈیا پر مسلم مخالف پروپیگنڈہ کرنے اور حال ہی میں سرورِ کائنات، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شانِ اقدس میں نازیبا و گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے والی ملعون خاتون نازیہ الٰہی خان کے خلاف مالیگاؤں میں مسلم تنظیمیں متحرک ہو گئی ہیں. اس سلسلے میں آل انڈیا سنی جمعتہ الاسلام کے ایک وفد نے نور العین صوفی کی قیادت میں مالیگاؤں کے ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال سے ملاقات کر کے ایک تفصیلی میمورنڈم پیش کیا اور ملزمہ کے خلاف فوری ایف آئی آر (FIR) درج کرنے کا پرزور مطالبہ کیا.میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفد کے اراکین نے اس معاملے کی سنگینی اور پولس انتظامیہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔​وفد کے نمائندوں نے میڈیا کو بتایا کہ مذکورہ خاتون گزشتہ دو سالوں سے مسلسل مسلمانوں اور اقلیتوں کے خلاف زہر اگلنے کا کام کر رہی ہے. جب بھی مسلمانوں کا کوئی تہوار یا مقدس مہینہ جیسے عید، بقرعید، یا محرم الحرام آتا ہے، وہ جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض اور اشتعال انگیز ویڈیوز اپ لوڈ کرتی ہے. اس بار اس نے حد پار کرتے ہوئے سید الانبیاء ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس خاتون کا واحد مقصد یہ ہے کہ مسلمان مشتعل ہو کر سڑکوں پر آئیں، ملک کا ماحول خراب ہو اور فرقہ وارانہ فسادات برپا ہوں. وہ جان بوجھ کر سوشل میڈیا پر ایسی ریلز اور ویڈیوز براڈکاسٹ کرتی ہے جس سے مسلم جذبات کو شدید ٹھیس پہنچے.

​وفد نے ایڈیشنل ایس پی سے مطالبہ کیا کہ ملزمہ کے خلاف سخت ترین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس کا سائبر سیل فوری حرکت میں آئے.
​یوٹیوب (YouTube)، انسٹاگرام (Instagram) اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موجود گستاخانہ ریلز اور لنکس کو فوری طور پر ڈیلیٹ کروایا جائے.​ایسی زہریلی اور نفرت انگیز ذہنیت پھیلانے والے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو مستقل طور پر بند (Ban) کیا جائے.

​ایڈیشنل ایس پی سورج گنجال نے وفد کی باتوں کو انتہائی سنجیدگی سے سنا اور انہیں مکمل یقین دہانی  کرائی کہ پولس اس معاملے پر سخت قانونی کارروائی کرے گی. انہوں نے وفد کو یقین دلایا ہے کہ شام تک ایف آئی آر درج کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے اور متنازعہ سوشل میڈیا لنکس اور اکاؤنٹس پر پابندی کے لیے بھی کارروائی شروع کی جائے گی.​میڈیا کے اس سوال پر کہ "اس سنگین معاملے پر اب تک بڑے پیمانے پر احتجاج کیوں نہیں کیا گیا؟" وفد کے ذمہ دار نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ قانون کا احترام کرتے ہوئے پہلے تحریری طور پر ایف آئی آر کا مطالبہ کیا گیا ہے.اگر پولیس انتظامیہ نے اس گستاخی پر ملزمہ کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا، تو آل انڈیا سنی جمعتہ الاسلام اور شہر کے مسلمان سڑکوں پر اتر کر بڑے پیمانے پر پرامن لیکن شدید احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے