ڈونگرالے ریپ و مرڈر کیس' کے مرکزی ملزم کی ضمانت درخواست مسترد ،عدالت کا فیصلہ
سرکاری وکیل اجول نکم اور ایڈووکیٹ سنیہا شرما ٹھاکرے کے دلائل پیش ،تحقیقاتی آفیسر کی آخری گواہی باقی
مالیگاؤں: 23 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) پورے مہاراشٹر سمیت ریاست بھر میں احتجاجی لہر اور 'مالیگاؤں بند' کا سبب بننے والے مشہور زمانہ ڈونگرالے ریپ و مرڈر کیس میں مظلومہ کو انصاف دلانے کی امید مزید روشن ہو گئی ہے۔گزشتہ روز فیملی/فاسٹ ٹریک کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران عدالت نے سنگین الزامات کے تحت قید ملزم کی ضمانت کی درخواست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔کیس کی تفصیلات اور موجودہ صورتحال کے حوالے سے اصل مدعی (فریادی) کی وکیل ایڈووکیٹ سنیہا شرما ٹھاکرے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عدالتی کارروائی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ایڈووکیٹ سنیہا شرما ٹھاکرے کے مطابق، گزشتہ تاریخ پر ملزم کی جانب سے ضمانت کی عرضی دائر کی گئی تھی، جس پر گزشتہ روز حتمی بحث ہونی تھی ۔مہاراشٹر حکومت کی جانب سے اس کیس کے لیے مقرر کردہ نامور اور خصوصی سرکاری وکیل (اسپیشل پبلک پروسیکیوٹر) پدم شری اجول نکم نے ویڈیو کانفرنسنگ (VC) کے ذریعے عدالت میں حاضری دی اور ملزم کی ضمانت کی شدید مخالفت کرتے ہوئے قانون کے مطابق ٹھوس دلائل پیش کیے۔ اصل مدعی کی جانب سے خود ایڈووکیٹ سنیہا شرما ٹھاکرے نے عدالت کے روبرو اہم ترین نکات رکھے۔ اس دوران ان کی معاونت کے لیے مقامی سرکاری وکیل سنجے سونولے اور ایڈووکیٹ ہرشد تیواری بھی ابتدا ہی سے موجود رہے اور ضمانت کے خلاف زبردست قانونی جرح کی ۔عدالتِ نے استغاثہ اور مدعی کے وکلاء کے دلائل کو درست تسلیم کرتے ہوئے اور کیس کی سنگینی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔
عوام میں اس کیس کے فیصلے کو لے کر پائی جانے والی بے چینی کے سوال پر ایڈووکیٹ سنیہا ٹھاکرے نے بتایا کہ یہ مقدمہ اب اپنے بالکل آخری مرحلے پر پہنچ چکا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ مقدمے کی کارروائی تقریباً ۹۵ فیصد مکمل ہو چکی ہے۔کیس سے جڑے تمام اہم اور ضروری گواہوں کے بیانات اور جرح عدالت میں قلمبند کی جا چکی ہے۔ اب صرف واحد اور آخری گواہ کے طور پر کیس کے تفتیشی افسر (انویسٹی گیشن آفیسر) کا بیان ہونا باقی رہ گیا ہے ۔چونکہ یہ معاملہ ایک فاسٹ ٹریک کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے ٹیم انتہائی تیز رفتاری سے کام کر رہی ہے۔تفتیشی افسر کی گواہی کے فوری بعد فریقین کی جانب سے حتمی بحث (فائنل آرگیومنٹ) شروع ہوگی اور امید ہے کہ بہت جلد اس کیس کا حتمی اور تاریخی فیصلہ سامنے آ جائے گا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com