بجلی کمپنی کی مبینہ لاپرواہی، کرنٹ لگنے سے مزمل حسین جاں بحق، ورثاء کا میت اٹھانے سے انکار
بجلی کے تاروں، ٹرانسفارمر کو درست کرنے اور متوفی کے ورثاء کو 25 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا مطالبہ
مالیگاؤں : 23 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)رمضان پورہ، امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے باعث ایک دردناک حادثہ پیش آیا ہے، جہاں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے نام سے ہوئی ہے جو کہ پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔
تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا، جس کے بعد میت کی تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے لوگوں کے لیے بارش سے بچاؤ کی خاطر پنڈال یا پردہ لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اس دوران جب مزمل نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار کلو واٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی دم توڑ گئے۔اس حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں اور وارڈ کے نمائندوں میں کارپوریٹر خالد شیخ رشید کارپوریٹر صغیر احمد ،عبد الباقی، منا ممبر وغیرہ کا کہنا ہے کہ بجلی کمپنی کی نااہلی کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں اور ڈی پی (ٹرانسفارمر) بھی زمین سے محض 4 سے 5 فٹ کی اونچائی پر نصب ہے، جس سے ہر وقت معصوم بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے، عوام کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی متعلقہ حکام بشمول انجینئرز اور افسران کو لٹکتے ہوئے تاروں کے حوالے سے متعدد بار تحریری اور زبانی شکایات کی گئیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا، لیکن کمپنی کی جانب سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں نکلا ہے۔
تفصیلات کے مطابق جاں بحق ہونے والے مزمل اپنے گھر میں اکیلے کمانے والے تھے اور ان کے پسماندگان میں دو چھوٹی بیٹیاں شامل ہیں۔ مظاہرین اور ورثاء کا مطالبہ ہے کہ بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر مظاہرین سے بات چیت کریں۔متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے کا معاوضہ دیا جائے کیونکہ متوفی کے علاوہ گھر کا کوئی کفیل نہیں ہے۔لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کو درست کرنے کا تحریری یقین دہانی نہیں کروائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے، اور اگر انتظامیہ نے زبردستی کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔اس واقعہ کی اطلاع ملنے کے بعد پاور کمپنی کے آفیسران و پولس انتظامیہ بھی موقع پر پہنچ کر مسائل کو حال کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com