ایم ایل سی الیکشن میں گوکل گیتے کی کامیابی تکبر اور دباؤ کی سیاست کی ہار ہوئی ہے : آصف شیخ
ہوٹل پالیٹکس اور ایم آئی ایم کی سیاست پر اسلام پارٹی کے رہنما کی تنقید
مالیگاؤں: 22 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک قانون ساز کونسل (MLC) کے انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سابق رکن اسمبلی اور اسلام پارٹی کے رہنما آصف شیخ نے آزاد امیدوار گوکل گیتے کی جیت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آصف شیخ نے نو منتخب ایم ایل سی گوکل گیتے کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ ہم نے اسلام پارٹی، سماجوادی پارٹی، کانگریس اور پسِ پردہ کئی ہمدرد کارپوریٹرس اور دیگر علاقے کے کونسلرز نے مل کر آزاد امیدوار گوکل گیتے کی کھل کر حمایت کی تھی، جس کے نتیجے میں وہ کامیاب ہوئے ہیں۔ سیاسی حکمتِ عملی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے آصف شیخ نے کہا کہ یہ کوئی مخصوص حکمتِ عملی نہیں تھی، بلکہ یہ ضلع میں قائم غرور، حد سے زیادہ خود اعتمادی (اوور کانفیڈنس) اور ووٹرز پر بنائے جانے والے دباؤ کے خلاف عوامی غصے کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدمقابل امیدوار ووٹرز سے ووٹ مانگنے تک نہیں آئے تھے کیونکہ انہیں اپنی جیت کا زعم تھا، لیکن جمہوریت میں دباؤ کا یہ نظام نہیں چل سکتا۔
آصف شیخ نے مخالفین کی "ہوٹل پولیٹکس" پر سخت تنقید کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ شیو سینا (شندے گٹ) اور بی جے پی نے اپنے امیدواروں کو کامیاب کرنے کیلئے تھانہ شہر کے ایک ریسورٹ میں کارپوریٹرس کو رکھا ہوا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ریسورٹ میں مالیگاؤں کے ایم آئی ایم (MIM) کے نگر سیوک بھی موجود تھے اور انہیں قائل کرنے کے لیے ممبرا سے بھی ایم آئی ایم کے رہنما وہاں پہنچے تھے، جس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ وہ 'بی ٹیم' کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ تاہم، ان کارپوریٹرس کو بھی دباؤ کا یہ طریقہ پسند نہیں آیا اور ان میں سے کچھ نے بھی اندرونی طور پر گوکل گیتے کو ووٹ دیا۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ گوکل گیتے اب جیت کے بعد وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کے لیے جا رہے ہیں، تو آصف شیخ نے واضح کیا کہ گوکل گیتے نے ایک آزاد (اپکش) امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑا تھا، ان پر نہ بی جے پی کا لیبل تھا نہ شیو سینا کا۔ انہوں نے کہا، "ہماری ذمہ داری جمہوریت کو بچانے اور دباؤ کی سیاست کو ختم کرنے کے لیے ووٹ دینے تک تھی، جو ہم نے کامیابی سے پوری کر دی۔ اس کے بعد کی سیاست پر ابھی بولنا مناسب نہیں ہے۔" تفصیلات کے مطابق گوکل گیتے نے تقریباً 109 ووٹوں کی برتری حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کی ہے، جس نے دادا بھسے، گریش مہاجن اور ادے سامنت جیسے بڑے رہنماؤں کو اب اس سیاسی صورتحال پر خود احتسابی (چنتن) کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com