ڈفتھیریا سے بچوں کی اموات پر تشویش، سماجوادی پارٹی یوتھ ونگ کا جنرل اسپتال انتظامیہ سے طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ
مالیگاؤں: 19 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) شہر کے جنرل اسپتال میں مبینہ طبی لاپرواہی اور ایمرجنسی خدمات کی کمزوری کے خلاف سماجوادی پارٹی یوتھ ونگ نے آواز بلند کرتے ہوئے محکمۂ صحت اور انتظامیہ کو میمورنڈم پیش کیا۔ یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف کی قیادت میں ایک وفد نے اسپتال میں ڈفتھیریا کے مریض پائے جانے، ضروری طبی سہولیات کی کمی اور حالیہ دنوں دو کمسن بچوں کی اموات پر شدید تشویش ظاہر کی۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ متاثرہ بچوں کو بروقت اور مناسب علاج نہ ملنے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، جس سے شہریوں میں سرکاری طبی نظام کے تئیں بے چینی اور ناراضگی پائی جا رہی ہے۔ وفد نے الزام عائد کیا کہ جنرل اسپتال میں ایمرجنسی خدمات مؤثر انداز میں انجام نہیں دی جا رہیں اور ضروری ادویات و انجیکشن کی قلت کے باعث مریضوں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
یوتھ ونگ کے صدر راحیل حنیف نے کہا کہ صحت عامہ سے متعلق اس طرح کی غفلت ناقابل برداشت ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جنرل اسپتال کے ایمرجنسی شعبہ کو مزید فعال بنایا جائے، طبی عملہ اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے انجام دے اور شہریوں کو بروقت علاج کی سہولت فراہم کی جائے تاکہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔
اس موقع پر سماجوادی پارٹی یوتھ ونگ کے عہدیداران و کارکنان بڑی تعداد میں موجود تھے، جن میں صہیب اعظمی، فیضان رجو، اعجاز پاپے، عتیق الرحمن صدیقی، معاذ ڈگنیٹی، عارف عطار، علی عبداللہ، نوید اختر اشرفی، عبدالماجد منصور، نفیس اعظمی، سید انس، عمر عبداللہ، فہیم جاگیردار و دیگر شامل تھے۔
وفد نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ شہریوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے سرکاری اسپتالوں میں طبی سہولیات کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com