اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے استثنیٰ، ہائی کورٹ کی واضح ہدایات



اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کو ٹی ای ٹی سے استثنیٰ، ہائی کورٹ کی واضح ہدایات


 حکم عدولی کرنے والے ایجوکیشن افسران کو پھٹکار،ایسی غلطیاں دوبارہ ہوئیں تو سخت کارروائی کا انتباہ 



اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر)  :12 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ)بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ایک اہم فیصلہ دیا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں کے ذریعہ چلائے جانے والے اسکولوں کے اساتذہ کے لیے ٹیچر اہلیتی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) پاس کرنا لازمی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ ریاست بھر کے اقلیتی اداروں میں اساتذہ کے لیے ایک بڑی راحت کے طور پر آیا ہے، اور عدالت نے حکم دیا ہے کہ 'ٹی ای ٹی' کی اہلیت کی کمی کی وجہ سے تعلیمی حکام کی طرف سے مسترد کردہ اسکول آئی ڈی اور پوسٹ کی شناخت کی تجاویز پر دوبارہ غور کیا جائے۔تفصیلات کے مطابق سید ابو زید سید رفیق، سیالی گایکواڑ اور سائیناتھ بنسوڑے کو 'شکشن سیوک' کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔ تاہم، تعلیمی حکام نے تکنیکی بنیادوں پر ان کی تقرری کو مسترد کر دیا تھا کہ ان اساتذہ نے 'ٹی ای ٹی' پاس نہیں کیا تھا۔ متعلقہ اساتذہ نے اس ناانصافی کے خلاف بنچ سے رجوع کیا تھا۔ درخواست گزاروں کی جانب سے ایڈووکیٹ سید توصیف یاسین، ایڈوکیٹ شیخ طارق مبین اور ایڈوکیٹ کے پی روج نے موثر دلائل دیئے۔


ہائی کورٹ کی آبزرویشن اور سپریم کورٹ کا ریفرنس

اس معاملے کی سماعت جسٹس ویبھا کنکن واڑی اور جسٹس اجیت بی کڈیتھنکر کی بنچ کے سامنے ہوئی۔سماعت کے دوران عدالت نے درج ذیل اہم مشاہدات کیے۔


سپریم کورٹ کی ہدایت:

 'انجمن'اشاعت تعلیم ٹرسٹ بمقابلہ حکومت مہاراشٹر' کے معاملے میں سپریم کورٹ نے اقلیتی اسکولوں میں ٹی ای ٹی کو لازمی قرار دینے کے معاملے کو بڑی بنچ کے پاس بھیج دیا ہے۔ جب تک اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا جاتا، تعلیمی حکام ٹی ای ٹی کی اہلیت پر اصرار کرتے ہوئے اس تجویز کو مسترد نہیں کر سکتے۔

سرکاری سرکلر: ریاستی حکومت کے دیگر پسماندہ طبقات بہوجن بہبود کے محکمے نے 17 اکتوبر 2025 کو واضح کیا تھا کہ ٹی ای ٹی اساتذہ کے لیے لازمی نہیں ہے کیونکہ تعلیم کا حق قانون (آر ٹی ای) اقلیتی اداروں پر لاگو نہیں ہوتا ہے۔


تعلیمی حکام کو سخت وارننگ

بینچ نے تعلیمی حکام کی جانب سے بار بار احکامات کے باوجود سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے فیصلوں کو نظر انداز کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ "ایجوکیشن آفیسران عدالت میں پیش ہو کر غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، لیکن وہ وہی غلطیاں کرتے رہتے ہیں۔ اس بار ہم انہیں کوئی جرمانہ عائد کیے بغیر چھوڑ رہے ہیں اور صرف وارننگ دے رہے ہیں، لیکن اگر مستقبل میں ایسی غلطیاں ہوئیں تو ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔" عدالت نے تعلیمی حکام کی طرف سے 16 اپریل 2026، 7 اپریل 2026 اور 25 مارچ 2025 کو جاری کیے گئے مسترد ہونے کے احکامات کو منسوخ کر دیا ہے۔عدالت نے کہا کہ متعلقہ تعلیمی ادارے اساتذہ کی تجاویز کو 15 دنوں کے اندر تعلیمی حکام کو دوبارہ جمع کرائیں۔عدالت نے ٹی ای ٹی کی اہلیت پر اصرار کیے بغیر تعلیمی حکام کو ایک ماہ کے اندر ان تجاویز پر بروقت قانونی فیصلہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے