مالیگاؤں : 28 اسکولوں میں ایڈمنسٹریٹر کی تقرری ، اساتذہ کی بھرتی و مالی خردبرد کے الزمات
مینجمنٹ کا اختیار سلب، اسکولوں کی ذمہ داری تین سال تک ایڈمنسٹریٹر کے زیر نگرانی
مالیگاؤں: 13 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) سابق وزیر پرشانت ہیرے کے خاندان سے تعلق رکھنے والے ناسک ضلع کے ایک مشہور تعلیمی ادارے مہاتما گاندھی ودیامندر کے 28 سیکنڈری اسکولوں میں ایک ساتھ منتظمین کی تقرری کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ریاستی تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مہیش پالکر نے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔ یہ کارروائی بے ضابطگیوں اور مالی بدانتظامی کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس اقدام نے سیاسی اور تعلیمی شعبوں میں زبردست ہلچل مچا دی ہے۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ اپریل میں ناسک ضلع پریشد کے سیکنڈری ایجوکیشن آفیسر کے دفتر نے مہاتما گاندھی ودیامندر انسٹی ٹیوٹ کے تمام سیکنڈری اسکولوں کی بیک وقت جانچ کی تھی۔ محکمہ تعلیم نے دعویٰ کیا ہے کہ اس تحقیقات میں کئی سنگین غلطیاں سامنے آئیں۔
تفتیش میں کیا الزامات لگے؟
اسکولوں کے معائنے میں طلباء کی تعداد اور اصل حاضری میں بڑا فرق پایا گیا، طلباء کی زیادہ تعداد دکھا کر اساتذہ کی خالی اسامیوں پر بھرتی کی منظوری حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا اور اصل حاضری کم ہونے کے باوجود کاغذ پر زیادہ حاضری دکھا کر اسکول نیوٹریشن اسکیم (مڈڈے میل) کے فنڈز میں بڑے پیمانے پر غبن کیا گیا۔ انکوائری رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس وجہ سے سرکاری فنڈز کا غلط استعمال کیا گیا۔ یہ بھی دیکھا گیا کہ کچھ اساتذہ ایک اسکول میں کام کر رہے تھے لیکن تنخواہ دوسرے اسکول سے وصول کر رہے تھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسکولوں میں جسمانی سہولیات، طلبہ کے تحفظ اور سالانہ امتحانات کے حوالے سے انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے طلبہ کو تعلیمی طور پر نقصان ہو رہا ہے۔
سماعت کے بعد ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کا حکم
اس انکوائری کے بعد محکمہ تعلیم نے اسکول انتظامیہ کو وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے بعد، ناسک کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے دفتر نے ان اسکولوں کے منتظمین کی تقرری کی سفارش پونے میں ایجوکیشن ڈائریکٹر سے کی۔ ایجوکیشن ڈائریکٹر نے اس معاملے میں تمام اسکولوں کی الگ الگ سماعت کی۔ اس سماعت میں ادارے کی انتظامیہ، متعلقہ اسکولوں کے پرنسپلز اور تعلیمی افسران کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔ حتمی سماعت کے بعد ڈائریکٹر ایجوکیشن نے 28 اسکولوں میں ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ حکم عہدہ سنبھالنے کی تاریخ سے تین سال کی مدت کے لیے نافذ العمل رہے گا۔
کارروائی کے پیچھے سیاسی محرکات
مہاتما گاندھی ودیامندر کو سابق وزیر پرشانت ہیرے کا خاندان چلاتا ہے۔ یہ تنظیم ضلع بھر میں مختلف کالجز، سیکنڈری اور ہائر سیکنڈری اسکولوں کے ساتھ ساتھ پرائمری و ٹیکنیکل اسکول چلاتی ہے۔ یہ مراٹھا ودیا پرسارک سنستھا کے بعد ناسک ضلع کا دوسرا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ ہے۔ اس تنظیم کے زیر انتظام تمام سیکنڈری اسکولوں میں اس طرح ایڈمنسٹریٹرز کی تقرری کی کارروائی کو ہیرے خاندان کے لیے ایک بڑا دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔ پرشانت ہیرے خود اب فعال سیاست سے دور ہیں۔ تاہم، ان کے دونوں بیٹے، سابق ایم ایل اے اپورو ہیرے اور ادوے ہیرے نے کچھ دن پہلے بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ہیرے خاندان اور شیو سینا شندے گروپ کے لیڈر و اسکولی تعلیم کے وزیر دادا بھوسے کے درمیان سیاسی دشمنی جگ ظاہر ہے۔ اس لیے محکمہ تعلیم کی جانب سے منتظمین کی تقرری کے لیے شروع کی گئی کارروائی سیاسی دباؤ کی وجہ بتائی جارہی ہے ہے جو کہ ادارہ کے ساتھ غیر منصفانہ عمل بھی بتایا جارہا ہے، تنظیم کے نمائندے راجیش شندے نے ایجوکیشن ڈائریکٹر کے سامنے سماعت کے دوران دلیل دی۔ اس دوران ڈائرکٹر آف ایجوکیشن کے حکم کے بعد تنظیم کے کوآرڈینیٹر اپوروا ہیر نے اس سلسلے میں کوئی بیان نہیں جاری کیا ہے،
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com