ڈھونگی بابا اشوک کھرات کیخلاف 11 ایف آئی آر درج، سیکڑوں خواتین کے جنسی استحصال کے ویڈیوز وائرل



ڈھونگی بابا اشوک کھرات کیخلاف 11 ایف آئی آر درج، سیکڑوں خواتین کے جنسی استحصال کے ویڈیوز وائرل 



مہاراشٹر میں 'کھرات فائل' سے سنسنی، شفاف جانچ کا مطالبہ ،ایس آئی ٹی کی جانچ میں چونکانے والے انکشافات 



ناسک : 31 مارچ (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک کے سنر تعلقہ کے میرگاؤں میں بھونڈو بابا اشوک کھرات کے معاملے سے پورا مہاراشٹر دہل گیا ہے۔ 31 مارچ کو اس کی ایس آئی ٹی کی جانچ کا 12 واں دن ہے اور پولس کی جانچ میں کئی چونکا دینے والی معلومات سامنے آ رہی ہیں۔اس معاملے میں نئے انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس طرح کھرات کی فحش ویڈیوز بڑے پیمانے پر وائرل ہوئی ہیں۔ ویڈیوز کی شیئرنگ نے متاثرہ خاندان کو ایک بڑے بحران میں ڈال دیا ہے۔ ہلچل اس وقت مچ گئی جب یہ انکشاف ہوا کہ اشوک کھرات نے خواتین کو اپنے جال میں پھنسایا اور 'یونی پوجا' اور 'یونی شدھی کرن' کی رسومات کے نام پر ان کا جنسی استحصال کیا۔ جس میں خواتین کے ساتھ کھرات کی فحش ویڈیوز سوشل میڈیا پر مختلف ویب سائٹس پر شیئر کی گئیں۔ جس کی وجہ سے متاثرہ خواتین کے اہل خانہ شدید پریشانی کا شکار ہو گئے ہیں۔ابتدائی طور پر یہ دیکھا گیا کہ متاثرہ خواتین بھونڈو بابا اشوک کھرات کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کے لیے آگے نہیں آرہی تھیں۔ لیکن اس وقت ایس آئی ٹی کے سربراہ اور آئی پی ایس افسر تیجسوی ستپوتے نے خواتین سے شکایت درج کرانے کی اپیل کی اور یقین دلایا کہ خواتین کے ناموں کی رازداری کو برقرار رکھا جائے گا۔ اس کے بعد اب کئی متاثرین نے اس معاملے میں اشوک کھرات کے خلاف اب تک 11 ایف آئی آر درج کرائی گئی ہے۔اشوک کھرات کی فحش ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد متاثرہ خواتین کے اہل خانہ اب بدنامی سے خوفزدہ ہیں۔ ویڈیوز کا شیئر کرنا پرائیویسی کی خلاف ورزی اور خاندانوں کے ذہنی تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔ نتیجتاً گواہ سامنے آنے سے گریز کر رہے ہیں جس سے تفتیش میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

23 مارچ کو وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کی ہدایات کے مطابق انتظامیہ نے ایسے معاملات میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے میڈیا پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ کئی نیوز چینلز کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ اب تک 170 ویب سائٹس سے ویڈیوز ہٹا دی گئی ہیں۔ایک متاثرہ کے رشتہ دار کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق ویڈیو سامنے آنے کے بعد اسے کئی دنوں تک دفتر جانے سے گریز کرنا پڑا۔ اب متاثرہ خاندان سے کہا گیا ہے کہ وہ آفس کی بجائے گھر سے کام کریں ۔ انکا کہنا ہے کہ اس واقعے سے پورا خاندان ذہنی طور پر متاثر ہو گیا ہے۔اسی طرح اشوک کھرت کیس میں متاثرہ خواتین کے کئی خاندان گزشتہ کچھ دنوں سے مسلسل پریشانی اور تناؤ کے ساتھ ساتھ سماجی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ رشتہ داروں کی مسلسل فون آ رہےت ہیں جن کا جواب دینا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔


اشوک کھرت کیس میں آئے روز چونکا دینے والے انکشافات ہو رہے ہیں۔ اس معاملے میں ریاست کے اہم لیڈروں کی تصاویر بھی سامنے آئی ہیں۔ اس معاملے کی وجہ سے روپالی چاکنکر کو ریاستی خواتین کمیشن کی چیئرپرسن کے عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا۔اشوک کھرات کیس میں روپالی چاکنکر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دھوکہ باز اشوک کھرت کے ساتھ روپالی چاکنکر کو بھی شریک ملزم بنانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ دھوکہ دہی کرنے والے اشوک کھرات کی چونکا دینے والی ویڈیوز سامنے آ رہی ہیں۔ جعلساز کھرات نے کئی خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ کچھ خواتین نے آگے آ کر اس کے خلاف مقدمہ درج کرایا۔ کھرات نے ہزاروں خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ لیکن اس کے مقابلے میں خواتین شکایات درج کرانے کے لیے آگے نہیں آتیں۔ ایک کے بعد ایک دھوکہ باز کے کرتوت سامنے آرہے ہیں۔ روپالی تھومبرے پاٹل نے دعویٰ کیا کہ یہ بہت بڑا ریکیٹ ہے۔ اشوک کھرات کئی سالوں سے خواتین کا جنسی استحصال کر رہا تھا۔اس ضمن میں روپالی چاکنکر سمیت 11 ٹرسٹیوں کو پوچھ گچھ کے لیے نوٹس بھیجے گئے۔ایس آئی ٹی نے شیونیکا سنستھا کے ٹرسٹیوں کو نوٹس بھیجے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے