ایم ایل اے و ایم پی ووٹ مانگنے نہ آئیں، جب تک مطالبات پورے نہ ہو تب تک ووٹ نہیں، ناراض گاؤں والوں کا اعلان


ایم ایل اے و ایم پی ووٹ مانگنے نہ آئیں، جب تک مطالبات پورے نہ ہو تب تک ووٹ نہیں،  ناراض گاؤں والوں کا اعلان 



ناسک ضلع کے اس گاؤں میں لوگوں نے رات کو موم بتی جلا کر نعرے بازی کی اور ووٹنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا 


ناسک : 3 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) ناسک ضلع کے ناندگاؤں تعلقہ کے کالامداری گاؤں کے قبائلی دیہاتیوں نے اپنے مختلف مطالبات کے لیے لوک سبھا انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس موقع پر گاؤں والوں نے موم بتی سے شمع روشن کی اور حلف لیا کہ کوئی ایم ایل اے، ایم پی ووٹ مانگنے نہیں آئے گا۔یہا سلام انہوں نے مرد و خواتین کو جمع کرکے نعرے بازی بھی کی ۔انہوں نے نعرہ لگایا کہ جب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہونگے تب تک ہم ووٹ نہیں دینگے. انہوں نے رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی کو ووٹ مانگنے کیلئے گاؤں میں آنے سے بھی منع کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ پارلیمنٹ کا چناؤ ہے لیکن اگر ہمارے مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں ہم اسمبلی چناؤ میں بھی ووٹ نہیں دینگے ۔
 
ان کسانوں کا مطالبہ یہ ہے کہ انہیں 2023 سے فصل کا بیمہ نہیں ملا ہے، اس گاؤں میں ضلع پریشد کو نئی عمارت نہیں ملی ہے، یہاں سے گرنا ڈیم تک سڑک کی مرمت نہیں ہوئی ہے، چار ماہ سے قبائلی بھائیوں کے کاسٹ سرٹیفکیٹ اور راشن کارڈ نہیں ملے ہیں، انہی مطالبات کو لیکر گاؤں والوں نے بائیکاٹ کا پرچم اٹھا لیا ہے۔ یہ کالا مداری گاؤں حلقہ ڈنڈوری میں  آتا ہے، اس سے قبل جمڈیری کے عوام نے بھی بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔اس طرح ناسک ضلع کے دو گاؤں کے لوگوں نے ووٹ دینے سے انکار کردیا ہے ۔ان دیکھنا ہے کہ الیکشن ڈپارٹمنٹ اس جانب کس طرح توجہ دیکر انکے مسائل حل کرواتا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن پر ایک شہری ک سلام ووٹ کے حق کا استعمال کرنے کا پابند بنا رہا ہے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے