چاول اور دال بھی عام لوگوں کی پہنچ سے دور!،مہنگائی کی مار سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ


چاول اور دال بھی عام لوگوں کی پہنچ سے دور!،مہنگائی کی مار سے گھریلو بجٹ پر اضافی بوجھ 



پانی کی قلت اور زرعی پیداوار میں کمی سے مزید مہنگائی بڑھنے کا خدشہ 



نئی دہلی : 17 اکتوبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) ملک میں بڑھتی مہنگائی کے درمیان اب چاول، دالوں اور دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے نے عام لوگوں کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ دسہرہ اور دیوالی جیسے اہم تہواروں سے قبل روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش مہنگی ہونے سے متوسط اور غریب طبقے کے گھریلو بجٹ پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔تہواروں کے موقع پر گھروں میں مختلف پکوان اور مٹھائیاں تیار کرنے کے لیے جہاں راشن کی خریداری بڑھ جاتی ہے، وہیں بڑھتی قیمتیں عام خاندانوں کے لیے اضافی مالی بوجھ بن رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق کرناٹک میں بارش کی کمی اور آبی ذخائر میں پانی کی سطح گھٹنے کے باعث دھان کی فصل متاثر ہونے کا اندیشہ ہے، جس کے نتیجے میں چاول کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ گزشتہ تین ماہ کے دوران چاول کی بعض اقسام کی قیمتوں میں تقریباً 25 سے 30 فیصد تک اضافہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جو چاول پہلے 50 سے 60 روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا، اس کی قیمت اب بڑھ کر 70 سے 90 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔چاول کے ساتھ دیگر غذائی اجناس کی قیمتوں میں بھی اضافہ درج کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گیہوں، جوار اور دیگر اناج کی قیمتوں پر بھی کم بارش اور پیداوار میں ممکنہ کمی کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ گیہوں کی قیمت گزشتہ سال تقریباً 35 سے 40 روپے فی کلو تھی، جو اب بڑھ کر 55 سے 60 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح گڑ کی قیمت بھی تقریباً 50 روپے فی کلو سے بڑھ کر 80 سے 85 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاع ہے۔


چاول کے ساتھ مختلف دالوں کی قیمتوں میں بھی تیزی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ منڈیوں میں دستیاب قیمتوں کے مطابق تور دال 130 سے 160 روپے فی کلو، چنا دال تقریباً 95 سے 100 روپے فی کلو، ہری مونگ 110 سے 120 روپے فی کلو اور اڑد دال 100 سے 165 روپے فی کلو تک فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم، مختلف اقسام اور مقامی بازاروں کے لحاظ سے ان قیمتوں میں فرق ہو سکتا ہے۔بازار میں غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں کم بارش، پانی کی قلت، فصلوں کی پیداوار متاثر ہونے کا خدشہ اور تہواروں کے دوران بڑھتی ہوئی مانگ شامل بتائی جا رہی ہیں۔ زرعی پیداوار میں کمی آنے سے بازار میں اناج کی آمد متاثر ہوتی ہے اور رسد و طلب کے درمیان فرق پیدا ہونے پر قیمتوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔چاول اور دالیں عوام کی روزمرہ خوراک کا اہم حصہ ہیں۔ ایسے میں ان کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ماہانہ گھریلو اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ پہلے ہی مہنگائی سے پریشان عام خاندانوں کو اب تہواروں کی خریداری کے لیے زیادہ رقم خرچ کرنا پڑ سکتی ہے۔ اگر قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری رہا تو آنے والے دنوں میں عام صارفین کی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے