مالیگاؤں کے پرائمری اسکولوں کی کایا پلٹنے کی تیاری!،سیکولر فرنٹ کے ذمہ داران کا بھیونڈی دورہ
بھیونڈی کی چار منزلہ ماڈل اسکولی عمارت، ڈیجیٹل کلاس روم، لیب، اور AI تعلیم نے کھینچا توجہ کا مرکز
آصف شیخ کی ایماء پر برسر اقتدار تعلیمی ترقی و طلباء کے روشن مستقبل کیلئے کوشاں
مالیگاؤں: 15 ستمبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مالیگاؤں شہر کے پرائمری اسکولوں کو جدید طرز پر استوار کرنے اور تعلیمی انفراسٹرکچر میں نمایاں بہتری لانے کی سمت مالیگاؤں سیکولر فرنٹ جدوجہد میں مصروف ہوگیا ہے۔تفصیلات کے مطابق ریاست کے وزیر تعلیم دادا بھسے اور سابق ایم ایل اے آصف شیخ کی ہدایت و ایما پر سیکولر فرنٹ اور اسلام پارٹی کے ذمہ داران، مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے آرکیٹیکٹ اور انجینئرز کے ہمراہ بھیونڈی کے ایک جدید ماڈل پرائمری اسکول کا دورہ کیا، جہاں اسکول کی عمارت، تعلیمی سہولیات اور جدید تدریسی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اس تعلیمی وفد میں خالد حاجی، مستقیم ڈگنیٹی، اسلم انصاری، شکیل جانی بیگ سمیت مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے آرکیٹیکٹ و انجینئرز شامل تھے۔
دورے کے دوران وفد نے بھیونڈی اسکول نمبر 22،62 کا معائنہ کیا۔ وفد کے مطابق محض 4 ہزار اسکوائر فٹ کی محدود جگہ پر 4 منزلہ شاندار اسکول کی عمارت تعمیر کی گئی ہے، جس میں مجموعی طور پر 32 کمرے ہیں، جبکہ 24 کمرے اسکول کے تعلیمی امور کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 2 ہزار طالبات زیرِ تعلیم ہیں۔
اس ماڈل اسکول کی سب سے نمایاں خصوصیت جدید تعلیمی سہولیات ہیں کہ اسکول میں فزکس، کیمسٹری اور کمپیوٹر لیب کے علاوہ تقریباً ہر کلاس روم میں ڈیجیٹل بورڈ نصب کیے گئے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ طلبہ کو جدید دور سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے جدید ٹولز سے بھی روشناس کرایا جا رہا ہے۔وفد کے نمائندوں بالخصوص خالد حاجی اور مستقیم ڈگنیٹی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھیونڈی کے مقامی ایم ایل اے رئیس شیخ اور اسکول انتظامیہ کی کوششوں سے یہ پرائمری اسکول سہولیات اور معیار کے اعتبار سے کئی نجی اسکولوں کو بھی پیچھے چھوڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں کے پرائمری اسکولوں کے معیار کو بلند کرنے اور انہیں جدید طرز پر تعمیر کرنے کے لیے بھیونڈی کے اس ماڈل سے رہنمائی حاصل کی جا رہی ہے۔ذمہ داران کے مطابق مالیگاؤں میں اسکولوں کے لیے نسبتاً زیادہ جگہ اور بڑے کیمپس دستیاب ہیں، اس لیے بھیونڈی کے ماڈل کو سامنے رکھتے ہوئے مالیگاؤں میں اس سے بھی بہتر اور جدید تعلیمی انفراسٹرکچر قائم کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں متعلقہ ماہرین اور انجینئرز کی جانب سے عملی امکانات کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
وفد نے اس موقع پر بھیونڈی کے سینئر کارپوریٹر حسنین فاروقی، ساجو صدیقی، عرفان سید، اسرا انصاری، اسکول کی ہیڈ مسٹریس روبینہ میڈم اور تمام تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جنہوں نے وفد کو اسکول کی تعلیمی و انتظامی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ذمہ داران نے مزید کہا کہ ریاست کے وزیر تعلیم دادا بھسے کی جانب سے بھیونڈی کے اس اسکول کا معائنہ کرنے کی تجویز خود اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ ادارہ جدید تعلیمی نظام اور بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے ایک قابلِ تقلید مثال بن چکا ہے۔مالیگاؤں میں بھیونڈی ماڈل کی طرز پر جدید پرائمری اسکولوں کی تعمیر کا منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو شہر کے سرکاری تعلیمی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔اس موقع پر خالد حاجی،مستقیم ڈگنیٹی،اسلم انصاری،شکیل جانی بیگ،سرجیل انصاری،اجو لہسن والا،عبدالرحمن انصاری،عقیل انصاری،محمد ایوب کے علاوہ مالیگاؤں کے آرکیٹیکٹ عبدالصمد انجینئیر،زید انصاری، عمیر انصاری موجود تھے جبکہ بھیونڈی کے کارپوریٹرس حسنین فاروقی، ساجو صدیقی، عرفان سید،اسرار انصاری کے ساتھ اسکول نمبر 22، 62 کے اسٹاف،ہیڈ ماسٹر روبینہ مومن،حکیم سر،یاسمین میڈم
وغیرہ بھی شریک رہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com