مہاراشٹر میں تبدیلی مذہب کا نیا قانون نافذ،صدر جمہوریہ کی منظوری کے ساتھ ہی ریاستی گزٹ میں شامل
زبردستی تبدیلی مذہب پر سات سال کی سزا، ایک لاکھ جرمانہ سمیت سخت سزا کا اطلاق
ممبئی : 4 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں زبردستی مذہبی تبدیلیوں کو روکنے والا قانون اب مکمل طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ "مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ، 2026" (مہاراشٹر مذہبی آزادی قانون) کو صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کی منظوری کے بعد 30 جولائی 2026 کو ریاستی گزٹ میں شائع کر دیا گیا، جس کے بعد یہ قانون پورے مہاراشٹر میں نافذ العمل ہو گیا ہے۔اس قانون کے تحت زبردستی، دباؤ، دھوکہ دہی، لالچ، غلط نمائندگی یا شادی کے بہانے کسی شخص کا مذہب تبدیل کرانا سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔حکومت کے مطابق قانون کا مقصد صرف غیر قانونی طریقوں سے ہونے والی مذہبی تبدیلیوں کی روک تھام ہے۔
نئے قانون کے مطابق جو شخص اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہے، اسے اپنے مذہب کی تبدیلی سے کم از کم 60 دن قبل ضلعی مجسٹریٹ کو تحریری اطلاع دینا ہوگی۔ مذہب کی تبدیلی کے بعد بھی مقررہ قانونی کارروائی مکمل کرنا لازمی ہوگا۔ ان شرائط کی خلاف ورزی کی صورت میں مذہبی تبدیلی کو خود بخود باطل تصور کیا جائے گا۔قانون کی خلاف ورزی پر پہلی مرتبہ جرم ثابت ہونے کی صورت میں سات سال تک قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص دوبارہ اسی جرم کا مرتکب پایا جاتا ہے تو سزا دس سال تک قید اور زیادہ جرمانے کی صورت میں دی جا سکتی ہے۔
قانون کے مطابق اگر متاثرہ شخص خاتون، نابالغ، ذہنی طور پر کمزور فرد، یا درج فہرست ذات (SC) یا درج فہرست قبیلہ (ST) سے تعلق رکھتا ہو، یا بڑے پیمانے پر مذہبی تبدیلی کا معاملہ ہو، تو قانون کے تحت مزید سخت سزاؤں کی گنجائش رکھی گئی ہے۔قانون کے مطابق صرف متاثرہ شخص ہی نہیں بلکہ اس کے والدین، بہن بھائی یا دیگر قریبی رشتہ دار بھی شکایت درج کرا سکتے ہیں۔ ایسے مقدمات کو قابلِ شناخت (Cognizable) اور غیر ضمانتی (Non-bailable) قرار دیا گیا ہے، جبکہ غیر قانونی مذہبی تبدیلی کی بنیاد پر ہونے والی شادی کو عدالت کالعدم قرار دے سکتی ہے۔ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ یہ قانون کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ صرف زبردستی، دھوکہ دہی اور لالچ کے ذریعے مذہب تبدیل کرانے کی روک تھام کے لیے بنایا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق اس کا مقصد آئینِ ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی کے حق کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔واضح رہے کہ اس قانون کو مارچ 2026 کے بجٹ اجلاس کے دوران مہاراشٹر اسمبلی اور قانون ساز کونسل دونوں سے منظوری ملی تھی۔ اس کے نفاذ کے ساتھ ہی مہاراشٹر بھی ان ریاستوں میں شامل ہو گیا ہے جہاں غیر قانونی مذہبی تبدیلیوں کی روک تھام کے لیے الگ قانون نافذ ہے۔حکام کے مطابق آئندہ ایسے تمام معاملات میں قانونی کارروائی اسی قانون کے تحت کی جائے گی۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com