محکمۂ تعلیم کی مبینہ لاپرواہی و غفلت کے باعث ہزاروں اساتذہ شدید ذہنی و مالی پریشانی کا شکار
مطالبات کی عدم تکمیل پر اساتذہ کا سخت مؤقف،ناسک ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ پر تالا لگانے کی دھمکی
ناسک :4 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ)ناسک ڈویژن کے اساتذہ اور غیر تدریسی ملازمین کے برسوں سے زیرِ التوا مطالبات اور محکمۂ تعلیم کی مبینہ سست روی کے خلاف روز ناسک روڈ پر واقع ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن کے دفتر کے سامنے زبردست احتجاج کیا گیا۔ اساتذہ کے اس "مہادربار" میں ناسک ڈویژن کے مختلف اضلاع سے چار سو سے زائد اساتذہ و ملازمین نے شرکت کی، جن میں خواتین اساتذہ کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔احتجاج کی قیادت ناسک ڈویژن کے ٹیچر ایم ایل اے کشور دراڈے نے کی۔ اس موقع پر اساتذہ نے بقایا بلوں کی ادائیگی، شالارتھ آئی ڈی کی منظوری، نان گرانٹ کو گرانٹ لیٹر، اضافی گرانٹ یافتہ اسکولوں اور اساتذہ کو گرانٹ آرڈر ریلیز کرنا، ہیڈ ماسٹر کی دستخط، تبادلوں، ترقی، طبی بلوں کی ادائیگی، اضافی گرانٹ یافتہ عملے کے مسائل، آرٹ ٹیچرز کے مسائل، سروس کنٹینیوٹی کی منظوری سمیت متعدد دیرینہ مسائل حکام کے سامنے پیش کیے۔
اس موقع پر اساتذہ نے الزام لگایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر آفس، محکمۂ تعلیم اور تنخواہ یونٹ میں بیشتر کام ٹھپ پڑے ہوئے ہیں، جبکہ نچلی سطح پر فائلوں کی منظوری کے لیے مسلسل رشوت طلب کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔ اساتذہ نے کہا کہ انتظامی غفلت کے باعث ہزاروں ملازمین شدید ذہنی و مالی پریشانی کا شکار ہیں۔
جب اس مہا دربار کے دوران اساتذہ کو اطمینان بخش جواب نہ ملا تو ٹیچر ایم ایل اے کشور دراڈے اور مختلف اساتذہ تنظیموں کے عہدیداران نے تعلیمی دفتر کا گھیراؤ کر لیا۔ احتجاج کے دوران اساتذہ میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا، جس کے پیش نظر موقع پر پولس بندوبست بھی تعینات کرنا پڑا۔ اس موقع پر پرنسپل ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر گورکھ کنگر، ایس بی دیش مکھ، پرادیپ سانگلے، ٹیچرس سینا کے سنجے چوہان سمیت مختلف تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
بعد ازاں ڈویژنل ڈپٹی ڈائریکٹر سنجے کمار راٹھوڑ اور ایجوکیشن آفیسر پرشانت دگرسکر نے اساتذہ کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ تمام زیرِ التوا مسائل کو مرحلہ وار حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام کی یقین دہانی کے بعد احتجاج کو فی الحال مؤخر کر دیا گیا۔تاہم اساتذہ نے حکومت اور محکمۂ تعلیم کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ ایک ماہ کے اندر ان کے مطالبات پورے نہ کیے گئے تو محکمۂ تعلیم کے دفتر پر تالا لگا کر بھرپور احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوگی۔واضح رہے کہ اس احتجاج نے محکمۂ تعلیم میں برسوں سے جاری انتظامی سست روی، التوا کا شکار معاملات اور اساتذہ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com