مساجد و منادر کے باہر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کی جائے، سابق ایم ایل اے شیخ آصف کا اہم مطالبہ
فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور امن و بھائی چارے پر زور، بجٹ مختص کرنے جنرل بورڈ میں فیصلہ ہوگا
مالیگاؤں، 18 اگست (بیباک نیوز اپڈیٹ): مالیگاؤں کے سابق ایم ایل اے اور اسلام پارٹی کے بانی شیخ آصف شیخ رشید نے شہر میں مسجد اور مندر کے حوالے سے ایک اہم بیان دیتے ہوئے مذہبی مقامات کی حفاظت، شفافیت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔انہوں نے آج مالیگاؤں کارپوریشن کی میئر ڈپٹی میئر اور اسٹینڈنگ چیرمین سے ملاقات کر مطالبہ کیا ہے کہ شہر میں مساجد اور مندروں کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں، تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر نظر رکھی جا سکے اور مستقبل میں کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا تنازع سے بچا جا سکے۔یہ بیان مالیگاؤں کے اسلام پورہ علاقے میں رات کے وقت پولس کی جانب سے گلی نمبر دو میں واقع مسجد اہل سنت خانقاہ برکاتیہ نقشبندیہ کی تلاشی لیے جانے کے واقعہ کے بعد سامنے آیا ہے۔ پولس کارروائی کے دوران مسجد کے سامنے والے علاقے اور گلی میں واقع بعض گھروں کی بھی چھان بین کی گئی تھی۔ اس کارروائی کے بعد شہر میں مختلف حلقوں کی جانب سے اس معاملے پر گفتگو شروع ہوگئی ہے۔
شیخ آصف نے کہا کہ اگر پولس نے انٹیلی جنس رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کی ہے تو امن و امان کے نقطۂ نظر سے سیکیورٹی اقدامات میں شفافیت ضروری ہے۔ ان کے مطابق رپورٹ میں شہر کے امن و امان کے لیے خطرہ بننے والی حساس اشیاء سے متعلق معلومات موصول ہونے کی بات سامنے آئی ہے، تاہم مذہبی مقامات کی تقدیس اور احترام کو ہر حال میں برقرار رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں ایک حساس اور مسلم اکثریتی شہر ہے، جہاں امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو اولین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ اسی لیے مسجد ہو یا مندر،گرجا گھر، چرچ اور بدھ وہار ہو ہر مذہبی مقامات کی حفاظت اور نگرانی کے لیے یکساں نوعیت کے سیکیورٹی انتظامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق مسجد اور مندر کے باہر سی سی ٹی وی کیمرے نصب ہونے سے مشکوک سرگرمیوں کی نگرانی کے ساتھ ساتھ کسی بھی واقعہ کی حقیقت سامنے لانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
شیخ آصف نے مزید کہا کہ مسجد اور مندر دونوں کی تقدیس کا احترام کرتے ہوئے شہر میں ایسا ماحول پیدا کیا جانا چاہیے جہاں تمام مذاہب کے لوگ خود کو محفوظ محسوس کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی کے یکساں انتظامات سے نہ صرف جرائم کی روک تھام میں مدد ملے گی بلکہ مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد بھی مزید مضبوط ہوگا۔
اسی سلسلے میں شیخ آصف نے مالیگاؤں میں چھترپتی شیواجی مہاراج کی یادگار تعمیر کرنے کے فیصلے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ یادگار میونسپل کارپوریشن کے جنرل بجٹ میں شامل کی گئی ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھترپتی شیواجی مہاراج کی تعلیمات اور ان کے دور سے وابستہ اتحاد، بھائی چارے اور سماجی ہم آہنگی کے پیغام کو عام کرنا ہے۔شیخ آصف نے اپنے ایک سابقہ ذاتی دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ رمضان المبارک کے دوران انہوں نے مغلیہ بادشاہ اورنگزیب کی قبر پر حاضری دے کر دعا کی تھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ دورہ کسی سیاسی مقصد کے تحت نہیں تھا بلکہ امن، بھائی چارے اور ہم آہنگی کی دعا کے جذبے کے تحت کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اسلام پارٹی کا بنیادی مقصد شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ حقیقی سیکولر سوچ کو فروغ دینا ہے۔حالیہ بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کی کامیابی کے بعد اب ان کی ترجیح مالیگاؤں میں ایسا ماحول قائم کرنا ہے جہاں تمام مذاہب اور طبقات کے لوگ باہمی احترام، امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہ سکیں۔
شیخ آصف نے واضح کیا کہ مالیگاؤں کی ترقی صرف سڑکوں، عمارتوں اور دیگر بنیادی سہولیات تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ شہر میں امن، اتحاد اور سماجی اعتماد بھی ترقی کا اہم حصہ ہے۔ ان کے مطابق مسجد اور مندر دونوں کا احترام کرتے ہوئے شہر کو فرقہ وارانہ کشیدگی سے دور رکھنا اور ترقی کی راہ پر آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ شہر کے حساس علاقوں میں سیکیورٹی انتظامات کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مذہبی مقامات کے باہر سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب کے معاملے پر فوری اقدامات کیے جائیں، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ مالیگاؤں میں امن و بھائی چارے کی فضا مزید مضبوط ہوسکے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com