شالارتھ آئی ڈی گھوٹالے میں ایک اور بڑی گرفتاری ،ناسک SIT نے بی جے پی عہدیدار کو گرفتار کیا
ناسک : 28 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ)ریاست بھر میں ہلچل مچا دینے والے شلارتھ آئی ڈی' گھوٹالے میں ناسک کی خصوصی تفتیشی ٹیم نے اب تک کی سب سے بڑی اور اثر انگیز کارروائی کی ہے، 'ناسک کی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اس گھوٹالے کے اہم ملزم جو بی جے پی کے عہدیدار ہے اور ایک بڑے تعلیمی ادارے کے مالک سنجے گاروڑ کو ناسک کرائم برانچ نے پیر کی رات شولاپور ضلع کے ناٹے پوٹے کے ایک فارم ہاؤس سے گرفتار کیا۔
تفصیلات کے مطابق جلگاؤں ضلع پریشد کے اس وقت کے ایجوکیشن آفیسر ششی کانت ہنگونیکر کو پولیس نے کچھ دن پہلے گرفتار کیا تھا۔ ہنگونیکر نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا اور 259 اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کو غیر قانونی شالارتھ آئی ڈی دی۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ ان میں سے زیادہ تر اساتذہ سنجے گاروڑ کے اداروں سے تھے ۔ہنگونیکر کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر ایس آئی ٹی کی ٹیم نے شولاپور میں جال بچھا کر گروڈ کو گرفتار کرلیا۔
تحقیقات کے دوران جو معلومات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق اس گھوٹالے میں چار اضلاع ناسک، جلگاؤں، دھولیہ اور نندربار کے 841 اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے ناموں کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ مرکزی ملزم سنجے گاروڑ کے 15 تعلیمی اداروں کے 177 ملازمین کو جعلی اپروول و شالارتھ آئی ڈی دینے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک سنگین الزام ہے کہ ریاستی حکومت پر ان فرضی شالارتھ آئی ڈی آرڈرز کی بنیاد پر 160 کروڑ روپے کی دھوکہ دہی کی گئی۔ اس پورے ریکیٹ میں اب تک بے نقاب 481 ملازمین میں سے 438 ملازمین صرف جلگاؤں ضلع کے ہیں۔ سنجے گاروڑ شلارتھ آئی ڈی گھوٹالے میں گرفتار چھٹا ملزم ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com