مالیگاؤں: محمد احتشام کی لاش گرنا ندی میں ملی،لیکن..قلعہ تیراک گروپ اور شکیل تیراک کے درمیان نیا تنازعہ


مالیگاؤں: محمد احتشام کی لاش گرنا ندی میں ملی، لیکن..قلعہ تیراک گروپ اور شکیل تیراک کے درمیان نیا تنازعہ 


پوار واڑی پولس اسٹیشن میں شکیل تیراک کی فریاد ، بتایا جان کو خطرہ 


شکیل تیراک کی خدمات بھی قابل تعریف اور قلعہ تیراک گروپ کی جدوجہد کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا 
  


مالیگاؤں : 29 جولائی (بیباک نیوز اپڈیٹ ) نعمانی پل سے چار دن قبل گر کر ڈوبنے والے محمد احتشام کی لاش بدھ کے روز برآمد ہو گئی۔ لاش نکالنے کیلئے قلعہ تیراک گروپ نے موسم ندی و گرنا ندی کا چپہ چپہ چھان مارا اور لہو لہان بھی ہوئے لیکن قلعہ تیراک گروپ نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر فائر بریگیڈ سے وابستہ شکیل تیراک اور ان کی ٹیم کو موصول اطلاع کے مطابق انہوں نے سوند گاؤں کے قریب گرنا ندی کے سیلابی پانی میں تیرتی ہوئی محمد احتشام کی لاش کو باہر نکالا۔ تاہم لاش ملنے کے فوراً بعد تنازع کھڑا ہو گیا اور شکیل تیراک نے قلعہ تیراک گروپ کے کچھ افراد کے خلاف پوار واڑی پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی ہے۔شکیل تیراک کے مطابق وہ گزشتہ تین دن سے اپنے فائر ٹیم اور ساتھیوں کے ہمراہ سوندگاؤں، ایس گاؤں، مالیگاؤں اور آس پاس کے دیہاتوں میں اس معصوم بچے کو تلاش کر رہے تھے۔ آج شام پانچ بجے کے قریب ایک ماہی گیر نے انہیں فون کر کے بتایا کہ پانی میں ایک لاش تیرتی نظر آ رہی ہے۔ شکیل تیراک اپنے ساتھیوں کے ساتھ موقع پر پہنچے، کشتی کے ذریعے لاش کو سوندگاؤں کے قریب سے نکالا اور کنارے پر لائے۔اس کے بعد انہوں نے قلعہ تیراک گروپ کے لوگوں کو اطلاع دی اور ایمبولینس منگوانے کو کہا۔ جب محمد اطہر عرف تارے اور قلعہ گروپ کے دیگر افراد کے ساتھ کارپوریٹر ساجد وہاں پہنچے تو شکیل تیراک کے دعوے کے مطابق انہیں براہ راست مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور پوچھا گیا کہ انہوں نے لاش کیوں نکالی۔


شکیل تیراک کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ آج کا نہیں بلکہ پندرہ بیس سال پرانا ہے۔ مالیگاؤں میں جب بھی کوئی شخص ڈوبتا ہے تو قلعہ تیراک گروپ اور فائر بریگیڈ دونوں تلاش کرتے ہیں، مگر اکثر  لاش شکیل تیراک کے ہاتھ لگ جاتی ہے جس پر دوسرے گروپ میں حسد پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ آج انہیں قتل کی دھمکی دی گئی کہ اگر وہ دوبارہ لاش نکالنے پانی میں جائیں گے تو انہیں مار دیا جائے گا۔شکیل تیراک نے اطہر احمد تارے اور کچھ دیگر افراد کے نام لیے جبکہ کارپوریٹر ساجد کو اس واقعے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا۔ شکیل تیراک نے کہا کہ وہ تنہا تھے اور ان کے ساتھی عارف بھی موجود تھے جن سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے پولیس کو مار پیٹ کی ویڈیو بھی فراہم کی ہے۔
شکیل تیراک نے زور دے کر کہا کہ یہ کریڈٹ کی جنگ نہیں بلکہ انسانیت کا کام ہے اور وہ کسی کی جان بچانے یا لاش نکالنے کے لیے کسی بھی جگہ جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر اب انہیں کہیں بلا کر حادثہ پیش آیا تو قلعہ تیراک گروپ کے افراد ذمہ دار ہوں گے۔اس واقعے کی مکمل تفصیلات اور دونوں فریقوں کے بیانات پر ابھی مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پوار واڑی پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے اور معاملے کی جانچ کر رہی ہے۔ وہیں عوام کو بتا دیں کہ قلعہ تیراک گروپ کی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا اور شکیل تیراک کی خدمات بھی قابل تعریف ہے ۔دونوں ہی گروپ ہمیشہ سے عوام کی خدمت کیلئے دن رات تیار رہتے ہیں ۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ تنازعہ جلد از جلد آپسی صلاح کے ساتھ ختم ہو اور ایک اچھے ماحول میں دوبارہ دونوں مل کر شہریان کی خدمات کو بہتر ڈھنگ سے انجام دینے والے بن جائیں ۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے