مہاراشٹرا قانون ساز کونسل میں اساتذہ کے مطالبات پر ہنگامہ خیز بحث ، حکومت کی خصوصی میٹنگ بلانے کی یقین دہانی
60 ہزار اساتذہ گرانٹ کے منتظر، سالوں سے بغیر تنخواہ کام کرنے والے اساتذہ کا آزاد میدان میں احتجاج جاری
حکومت کیساتھ اسکول مینجمنٹ بھی اساتذہ کو تنخواہ دینے کی ذمہ دار ،وزیر تعلیم کا اسمبلی میں موقف
ممبئی : 26 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)مہاراشٹرا کی قانون ساز کونسل (ایوان بالا) کے حالیہ اجلاس میں جزوی طور پر امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے دیرینہ مطالبات اور گرانٹ کی فراہمی کے حوالے سے شدید گرما گرمی دیکھی گئی۔قانون ساز کونسل کے رکن کرن سرنائیک کی جانب سے پیش کیے گئے ایک اہم توجہ طلب نوٹس پر بحث کے دوران اپوزیشن اور دیگر اراکین نے اسکولوں کے اساتذہ کو گرانٹ کا اگلا مرحلہ دینے اور ان کے حقوق کی فراہمی کا معاملہ پُرزور انداز میں اٹھایا۔
ایوان میں اراکین نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں تقریباً 60 ہزار اساتذہ اور تعلیمی ملازمین گرانٹ کے اگلے مرحلے کے شدت سے منتظر ہیں۔ اراکین نے مطلع کیا کہ سمنوئے سنگھ کے تحت 22 جون سے آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، جہاں پچھلے 15 سے 20 سالوں سے انتہائی قلیل معاوضے یا بغیر تنخواہ کے خدمات انجام دینے والے اساتذہ اپنے حقوق کے لیے سڑکوں پر ہیں۔اراکینِ اسمبلی وکرم کالے، پرشاد لاڈ اور ابھجيت ونجاری نے وزیرِ تعلیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بار بار اسکولوں کی جانچ پڑتال اور سخت شرائط (جیسے آخری جماعت میں طلبہ کی مخصوص تعداد) کی آڑ میں اسکولوں کو امداد سے محروم رکھ رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اساتذہ کو 100 فیصد گرانٹ فراہم کی جائے۔جو اساتذہ 40 یا 60 فیصد گرانٹ پر ہی ریٹائر ہو چکے ہیں، انہیں بھی پنشن اور دیگر مراعات دی جائیں۔بحث کے دوران اساتذہ کے دیگر اہم مطالبات بھی ایوان کے سامنے رکھے گئے، جن میں سو فیصد گرانٹ یافتہ اسکولوں کی طرز پر جزوی امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کو بھی طبی مراعات ملنی چاہئیں۔تعلیمی کاموں کے دوران حادثات کا شکار ہونے والے اساتذہ کے اہل خانہ کو مالی مدد اور ریٹائرمنٹ کے بعد نیشنل پنشن سسٹم کا تحفظ دیا جائے۔اسی طرح ممبئی میونسپل کارپوریشن (BMC) کے تحت آنے والے نجی امداد یافتہ اسکولوں کے اساتذہ کے واجبات اور بقایاجات فوری ادا کیے جائیں۔
ایوان میں اٹھنے والے سوالات کا جواب دیتے ہوئے اور حکومت کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ تعلیم نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر پوری طرح سنجیدہ ہے۔ انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ"حکومت نے اس سے قبل 2023 میں 1160 کروڑ روپے اور 2025 میں 970 کروڑ روپے گرانٹ کی مد میں جاری کیے ہیں، جو ہماری سنجیدگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔"
وزیرِ موصوف نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اساتذہ کو ملازمت پر رکھنے کی ذمہ داری متعلقہ اسکول مینجمنٹ (اداروں) کی ہوتی ہے، اس لیے حکومت کے ساتھ ساتھ اداروں پر بھی کچھ مالی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔اساتذہ کی مشکلات اور اراکین کے شدید اصرار کو دیکھتے ہوئے وزیرِ تعلیم نے ایوان کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت جاریہ اسمبلی اجلاس کے دوران ہی تمام متعلقہ اراکینِ اسمبلی اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک خصوصی میٹنگ طلب کرے گی۔ اس اجلاس میں مالیاتی امور کا جائزہ لے کر وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کے مشورے سے اساتذہ کے تمام جائز مطالبات پر مثبت اور حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com