"معرکہ کربلا میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ سمیت اہلِ بیتِ اطہار کی لازوال قربانیاں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی حفاظت اور سر بلندی کیلئے دی جانے والی عظیم ترین قربانی ہیں
شہدائے کربلا نے دین بچانے کیلئے اپنے سر کٹوا دیئے ، مگر آج کا مسلمان ناچ گانے، ظاہری چمک دمک اور لالی پاؤڈر جیسی لغویات میں کھو گیا
نور باغ میں ذکر تاجدار کربلا عنوان پر عظیم الشان اجتماع ،ہزاروں عاشقان رسول کی شرکت ،مولانا سید امین القادری قبلہ کا خصوصی خطاب
مالیگاؤں : 24 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ)دینِ اسلام کی حفاظت اور بقا کیلئے نواسہ رسولؐ اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا، لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ آج کا مسلمان اسلام کی اصل تعلیمات سے غافل ہو چکا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سنی دعوت اسلامی کے مقامی امیر مولانا سید امین القادری قبلہ نے نور باغ میں منعقدہ ایک عظیم الشان اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔یہ اجتماع نور باغ SDI گروپ رضوان میمن اینڈ گروپ کی جانب سے "ذکرِ تاجدارِ کربلا" کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا، جس میں عاشقانِ رسولؐ اور محبانِ اہلِ بیتؑ کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مولانا سید امین القادری نے اپنے رقت انگیز اور فکر انگیز خطاب میں کربلا کے عظیم شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ"معرکہ کربلا میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ سمیت اہلِ بیتِ اطہار کی لازوال قربانیاں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں، بلکہ دینِ اسلام کی حفاظت اور سر بلندی کے لیے دی جانے والی عظیم ترین قربانی ہیں۔ مگر آج کا مسلمان غفلت کی نیند سو رہا ہے۔ جن کے بڑوں نے دین کے لیے سجدے میں سر کٹوا دیے، آج ان کی اولادیں ناچ گانے، میوزک، ظاہری چمک دمک اور لالی پاؤڈر جیسی لغویات کی شوقین ہو چکی ہیں۔"
انہوں نے نوجوانوں اور شرکائے اجتماع کو جھنجھوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اپنے ایمان کی حفاظت کرنا ہم سب کا اولین اخلاقی اور مذہبی فرض ہے۔موجودہ دور کی اخلاقی پستی سے بچنے کے لیے مولانا سید امین القادری قبلہ نے کہا کہ مسلمان نماز کو وقت پر اور باقاعدگی سے ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔اسی طرح سود خوری، جھوٹ، فتنہ و فساد اور دھوکہ دہی جیسی مہلک اخلاقی بیماریوں سے دور رہیں۔موصوف نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ دین میں پیدا ہونے والی نئی نئی خرافات اور بدعات سے خود کو اور اپنی نسلوں کو محفوظ رکھیں۔
مولانا سید امین القادری نے خطاب کے اختتام پر سامعین سے عہد لیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم واقعی اہلِ بیت سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں، تو ہمیں اہلِ کربلا کی قربانیوں کو صرف یاد ہی نہیں رکھنا بلکہ اپنی عملی زندگیوں میں اسلام کا سچا اور پکا وفادار بن کر دکھانا ہوگا۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہر مسلمان اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے رسولِ مکرم ﷺ کے احکامات اور فرمودات پر پوری طاقت اور خلوصِ نیت کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے۔ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ اور اہل بیت و اطہار علیہم السلام میں درود و سلام کے نذرانے، اور ملک و ملت کی امن و سلامتی اور ایمان پر استقامت کی خصوصی دعاؤں کے ساتھ مولانا سید امین القادری قبلہ کی خصوصی دعا سے ہوا۔اجتماع کی نظامت مسجد یا رسول اللہ کے امام حافظ غفران اشرفی نے انجام دی ۔اس موقع پر رضوان میمن، اقبال قادری، شفیق انصاری، شعیب انجم سمیت SDI نورباغ گروپ کے اراکین انتظامیہ موجود تھے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com