پچاس فیصد سے زائد ریزرویشن معاملہ : بلدیاتی انتخابات میں ریزرویشن پر اب منگل کو سماعت
نئی دہلی : 19 نومبر (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر میں بلدیاتی انتخابات میں، کچھ میونسپلٹیوں، ضلع پریشدوں، پنچایت سمیتی میں 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن ہورہا ہے۔جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 17 نومبر کو ہونے والی سماعت میں اس پر سخت برہمی کا اظہار کیا، آج پھر اس کی سماعت ہونی تھی۔ تاہم، چونکہ جسٹس جوئے مالیا باغچی موجود نہیں تھے، اس لیے اب سماعت منگل 25 نومبر کو ہوگی۔
پچھلی سماعت میں کیا ہوا؟
بلدیاتی اداروں میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کے نفاذ کے ساتھ ہی 159 مقامی اداروں میں ریزرویشن کی 50 فیصد حد سے تجاوز کر گیا ہے جس میں 17 ضلع پریشد، 83 پنچایت سمیتی، دو میونسپل کارپوریشنز اور 57 میونسپل کارپوریشن شامل ہیں۔ جسٹس سوریا کانت اور جسٹس جوئے مالیا باغچی کی بنچ نے بلدیاتی انتخابات میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے لیے 27 فیصد ریزرویشن کو نافذ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اور کہا تھا کہ انتخابات نہ روکیں وقت پر انتخابات کئے جائیں اس کیلئے ریزرویشن کو بھی قانون کے مطابق رکھا جائے ۔
ریزرویشن 50 فیصد سے زیادہ
ریاستی الیکشن کمیشن نے جہاں میونسپل اور نگر پنچایت انتخابات کے لیے ریزرویشن کے حوالے سے واضح ہدایات دی ہیں وہیں کچھ جگہوں پر 50 فیصد سے زیادہ ریزرویشن کی وجہ سے کنفیوژن کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ قبائلی اکثریتی بلدیاتی اداروں میں ریزرویشن کا مسئلہ پیدا ہوا ہے۔ نندربار ضلع پریشد میں ریزرویشن 100 فیصد ہو گیا ہے۔ پالگھر میں 93 فیصد، گڈچرولی میں 78 فیصد، دھولے میں 73 فیصد، ناسک میں 72 فیصد ریزرویشن نافذ کیا گیا ہے۔ امراوتی، چندر پور، ایوت محل ، اکولہ ضلع پریشدوں میں 60 سے 70 فیصد کے درمیان ریزرویشن نافذ کیا گیا ہے۔ آٹھ ضلع پریشدوں - ناگپور، تھانے، واشیم، ناندیڑ، جلگاؤں، ہنگولی، وردھا اور بلدھانا میں 51 سے 60 فیصد کے درمیان ریزرویشن فراہم کیا گیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com