گرنا ندی سے خورشید احمد کی لاش برآمد، فوٹو اور ادھار کارڈ سے ہوئی شناخت
مالیگاؤں: (بیباک نیوز اپڈیٹ) پانچ اگست بروز بدھ کے دن شام تقریباً ساڑھے چھ بجے کے قریب گیارہ ہزار کالونی کے پیچھے گرنا ندی میں ایک نوجوان کی لاش ملنے کا واقعہ سامنے آیا ہے۔قلعہ گروپ سے تعلق رکھنے والے منا بھائی مچھلی پکڑنے ندی کے کنارے گئے تھے تب انہیں اور ان کے ساتھی کو ایک نوجوان کی لاش چہرے کے بل پڑی ہوئی نظر آئی۔ ندی میں پانی کا بہاؤ بہت تیز اور خطرناک تھا۔ لاش بہہ جانے کے خوف سے منا نے فوری طور پر سوشل ورکرز سے رابطہ کیا۔ ضیاء مسکان نے اطہر احمد تارے اور پوار واڑی پولس اسٹیشن کے پی آئی راہل اور پی ایس آئی کرن پاٹل کو مطلع کیا۔ منا نے خود تیراکی کر کے لاش کو پانی سے باہر کنارے پر نکال لیا تاکہ وہ بہہ نہ جائے۔
پولیس ٹیم اور سوشل ورکرز موقع پر پہنچے۔ لاش کی تلاشی میں جیب سے تقریباً ایک ہزار ستر روپے نقدی اور ایک آدھار کارڈ برآمد ہوا جس پر نام خورشید احمد محمد شریف درج تھا۔ متوفی تقریباً ۲۹ سال کا تھا۔ ابتدائی طور پر بتایا گیا کہ اسے مرگی یا کوئی ذہنی بیماری تھی جس کی وجہ سے وہ ندی میں گر گیا ہو سکتا ہے۔ بعد میں خاندان نے لاش کی شناخت کر لی۔ جو گہرے صدمے میں ہیں۔لاش کو ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش خاندان کے حوالے کر دی گئی۔ متوفی کی موٹر سائیکل اور بھی برآمد ہوئی تھیں۔
سوشل ورکرز نے شہر کی عوام سے اپیل کی ہے کہ گرنا ندی اور موسم ندی کے قریب بچوں اور نوجوانوں کو جانے سے روکیں۔ گزشتہ ہفتوں میں بھی اسی ندی میں کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ قلعہ تیراک گروپ کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تیراک بھی اپنے خاندان والوں کو چھوڑ کر خطرے میں پڑتے ہیں مگر زندہ واپس نہیں لا سکتے۔اس موقع پر وارڈ کے سرکردہ افراد اور سوشل ورکروں نے خاندان کے ساتھ غم کا اظہار کیا اور صبر کی تلقین کی۔


0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com