ناسک حلقہ ایم ایل سی انتخابات میں کروڑ پتی امیدوار میدان میں
نارائن دراڑے، پرویز کوکنی، گنیش گیتے، گوکل گیتے کے بیچ کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکان
مالیگاؤں : 3 جون (بیباک نیوز اپڈیٹ) مہاراشٹر قانون ساز کونسل کے ناسک لوکل باڈی حلقہ کے انتخابی مہم میں امیدواروں کے داخل کردہ حلف ناموں سے اثاثوں کے چشم کشا اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ حلف ناموں سے واضح ہے کہ زراعت اور کاروبار سے کروڑوں کی آمدنی والے 'مالدار' امیدوار اس الیکشن میں میدان میں اترے ہیں۔ اس الیکشن میں سیاسی طاقت کے ساتھ ساتھ 'مالی' طاقت کا بھی چرچا ہو رہا ہے۔ اگرچہ شیو سینا (شندے گروپ) کے امیدوار اور سابق ایم ایل اے نریندر داراڑے کے اثاثے 25 کروڑ کے لگ بھگ ہیں، لیکن ان کے خلاف کھڑے تین آزاد امیدواروں کے پاس 100 کروڑ سے زیادہ کی جائیداد ہے۔
ناسک قانون ساز کونسل کے انتخابات میں 25 کروڑ روپے کے اثاثہ رکھنے والے دراڈے کو 3 امیدواروں نے چیلنج کیا ہے،دراڑے کے سامنے گنیش گیتے 177 کروڑ روپے کے مالک ہیں، گوکل گیتے 149 کروڑ روپے کے مالک ہیں،پرویز کونکنی 109 کروڑ روپے کے مالک ہیں۔
بی جے پی کے باغی آزاد گنیش گیتے کے پاس 177 کروڑ روپے، پرویز کوکنی کے پاس 109 کروڑ روپے اور گوکل گیتے کے پاس 149 کروڑ روپے کے اثاثے ہیں، انہوں نے اپنے حلف نامے اس طرح کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ دوسری جانب اگر ہم کرائم سائیڈ پر غور کریں تو سابق ایم ایل اے دراڈے کے خلاف 5 کیس درج کیے گئے ہیں جو کہ سب سے زیادہ ہے۔ کوکنی 3، گنیش گیتے 2 اور گوکل گیتے کیخلاف 1 مجرمانہ معاملہ ہے۔انتخابی حلف نامے کے مطابق ان امیدواروں کے خلاف زیر التواء فوجداری مقدمات درج ہیں۔نیوروتی دیورام بوڈکے (آزاد) اور وشنو رنجا مہیسدھون کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا ہے۔
قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے میدان میں اترنے والے بی جے پی کے باغی آزاد امیدوار گنیش ببن گیتے کے سیاسی گراف کے ساتھ ساتھ ان کا مالی گراف بھی تیز رفتاری سے بلند ہوا ہے۔ 2024 کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے گیتے خاندان کے کل اثاثوں میں صرف ڈیڑھ سے دو سال میں 102 کروڑ 50 لاکھ روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ ان کے اثاثے، جو 2024 میں تقریباً 75 کروڑ روپے تھے، اب 177 کروڑ 88 لاکھ روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ قانون ساز کونسل 2026 کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی کے ساتھ داخل کئے گئے حلف نامہ اور 2024 کے اسمبلی انتخابات میں داخل کئے گئے حلف نامہ کا موازنہ کیا جائے تو یہ چونکا دینے والا اعداد و شمار سامنے آیا ہے۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com