'کاکروچ از بیک' نام سے نیا اکاؤنٹ،مرکزی وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ، ابھیجیت دیپکے کو جان سے مارنے کی دھمکی
کاکروچ جنتا پارٹی کیخلاف سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضداشت ، ابھیجیت دیپکے کی مشکلات میں اضافہ
نئی دہلی : 24 مئی (بیباک نیوز اپڈیٹ) چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے بیان نے ملک کے نوجوانوں کا موازنہ کاکروچ سے کیا تھا۔ حالانکہ چیف جسٹس نے صفائی دیتے ہوئے بعد میں کہا تھا کہ میرا یہ مقصد نہیں تھا کچھ لوگ اسکا غلط پروپگنڈا کررہے ہیں ۔خیال رہے کہ نیٹ امتحان منسوخی معاملہ کے بعد کئی نوجوانوں حکومت کی پالیسی کے خلاف ہے ۔لیکن چیف جسٹس جے اس بیان سے ملک بھر کے نوجوانوں میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی۔چیف جسٹس کے اس بیان پر انوکھے انداز میں احتجاج کے لیے سوشل میڈیا پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک بڑی تحریک شروع کردی گئی۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کوئی سرکاری طور پر رجسٹرڈ سیاسی تنظیم نہیں ہے بلکہ ایک ڈیجیٹل تحریک ہے جو صرف اور صرف نوجوان نسل کی چیخ و پکار سے ابھری ہے۔
مہاراشٹر کے ایک مراٹھی نوجوان ابھیجیت دیپکے نے اس تحریک کا آغاز کیا۔ یہ مہم (کاکروچ جنتا پارٹی) سوشل میڈیا پر شروع ہوئی اور اسے ہندوستانی نوجوانوں کی جانب سے بے مثال اور زبردست ردعمل ملا۔ کچھ ہی دنوں میں اس ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے آن لائن فالوورز کی تعداد کروڑوں تک پہنچ گئی اور یہ تحریک قومی سطح پر ایک بڑا موضوع بحث بن گئی۔
ڈیجیٹل مخمصے اور سیکیورٹی کا مسئلہ
تحریک کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ شروع ہی سے اس مہم کو دبانے کی کوشش کی گئی ہے۔ بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کا آفیشل ٹوئٹر (X) اکاؤنٹ انتظامیہ نے معطل کردیا،جس کے چھ روز میں لاکھوں فالوور تھے جب کہ دوسری جانب سنسنی خیز معلومات سامنے آئی ہیں کہ اس کا انسٹاگرام اکاؤنٹ بھی ہیک کرلیا گیا ہے۔اس اکاؤنٹ کے بھی چھ دنوں میں دو کروڑ سے زائد فالوور تھے۔
دریں اثنا، ابھیجیت دیپکے، جو اس تحریک (کاکروچ جنتا پارٹی) کی قیادت کر رہے ہیں، کو مسلسل دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ اس سنگین پس منظر میں پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر ابھیجیت کے گھر کو خصوصی سیکورٹی فراہم کی ہے تاکہ امن و امان کا کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو۔
سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست اور نیا بحران
ڈیجیٹل سطح پر مشکلات کا سامنا کرنے والی اس تحریک کو اب قانونی محاذ پر بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف اب ایک مفاد عامہ کی عرضی (PIL) براہ راست سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے، جس میں اس تنظیم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔اس درخواست میں مظاہرین پر انتہائی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ درخواست کے ذریعے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس تنظیم نے سپریم کورٹ کے تبصروں کی غلط تشریح کی اور اسے اپنے مفاد کے لیے تجارتی طور پر استعمال کیا۔اس درخواست میں ایک اور اہم اور الگ مسئلہ اٹھایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے تمام مشکوک وکلاء جنہوں نے جعلی ڈگریوں کی بنیاد پر اپنا قانونی پیشہ شروع کیا ہے، ان کی سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) سے مکمل چھان بین کرائی جائے۔
آگے کا راستہ مشکل ہے
سوشل میڈیا اکاؤنٹس کا بند ہونا، دیپکے کو دھمکیاں اور اب براہ راست سپریم کورٹ میں دائر PIL، ان تمام پیش رفت نے 'کاکروچ جنتا پارٹی' کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔پورا ملک دیکھ رہا ہے کہ نوجوانوں کی ناراضگی سے اٹھنے والی یہ آن لائن تحریک اب قانونی دلدل سے کیسے بچ پائے گی اور عدالت اس پر کیا فیصلہ کرے گی۔
وہیں ابھیجیت دیپکے نے انسٹاگرام پر "کاکروچ از بیک" کے نام سے نیا اکاؤنٹ بنایا ہے انہوں نے اس پر ریل شیئر کرتے ہوئے کہا کہ اب ہمارا مطالبہ ہے کہ بھارت سرکار مرکزی وزیر تعلیم کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے لگائیں ۔انہوں نے کہا کہ NEET امتحان کے 22 لاکھ سے زائد طلبا کا مستقبل اندھیرے میں ہے اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنی من مانی چلا رہے ہیں ۔دیپکے نے کہا کہ اب چاہے جو کچھ ہو، ہم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لیکر رہیں گے ۔
0 تبصرے
bebaakweekly.blogspot.com